وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبٰطِلِ وَتُدْلُوۡابِہَاۤ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنْ اَمْوٰلِ النَّاسِ بِالۡاِثْمِ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴿۱۸۸﴾٪

ترجمۂ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔ 

{وَلَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبٰطِلِ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔} اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر ،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔(احکام القرآن، باب ما یحلہ حکم الحاکم وما لا یحلہ،۱/۳۰۴)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لیے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے۔ اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثر ڈالنا، رشوتیں دینا حرام ہے ۔حکام تک رسائی رکھنے والے لوگ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے۔ (تاریخ بغداد، باب محمد، محمد بن احمد بن محمد بن جابر۔۔۔ الخ،۱/۳۶۰، رقم: ۲۶۲)

یہ بھی معلوم ہوا کہ جھوٹی گواہی، جھوٹی وکالت، جھوٹے مقدمہ کی پیروی و کوشش کی اجرتیں حرام ہیں۔ حرام کے بارے میں آگے تفصیل سے بیان آئے گا۔