وَقٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ الَّذِیۡنَ یُقٰتِلُوۡنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡاؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ﴿۱۹۰﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔ 

{وَقٰتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ: اوراللہ کی راہ میں لڑو۔} 6 ہجری میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ،اس سال حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ طیبہ سے عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، مشرکین نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا اور اس پر صلح ہوئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ آئندہ سال تشریف لائیں تو آپ کے لیے تین روز کیلئے مکہ مکرمہ خالی کردیا جائے گا، چنانچہ اگلے سال 7ہجری میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عمرے کی قضاء کے لیے تشریف لائے ۔اب حضورانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ایک ہزار چار سوصحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم تھے ۔مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ کفار نے اگر وعدہ پورا نہ کیا اور حرم مکہ میں حرمت والے مہینے ذی القعدہ میں جنگ کی تو مسلمان چونکہ حالت ِ احرام میں ہوں گے اس لئے اس حالت میں جنگ کرنا ان کیلئے بڑا مشکل تھا کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک نہ حرم میں جنگ جائز تھی اورنہ حرمت والے مہینوں میں ، لہٰذا انہیں تَرَدُّد ہوا کہ اس وقت جنگ کی اجازت ملتی ہے یا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۸۹، ۱/۱۳۰)
آیت میں اجازت کا معنی یا تو یہ ہے کہ جو کفار تم سے لڑیں یا جنگ کی ابتداء کریں تم ان سے دین کی حمایت اور اعزاز کے لیے لڑو یہ حکم ابتداء اسلام میں تھاپھر منسوخ کیا گیا اور کفار سے قتال کرنا واجب ہوا خواہ وہ ابتداء کریں یا نہ کریں یا یہ معنی ہے کہ ان سے لڑو جو تم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ بات سارے ہی کفار میں ہے کیونکہ وہ سب دین کے مخالف اور مسلمانوں کے دشمن ہیں خواہ انہوں نے کسی وجہ سے جنگ نہ کی ہو لیکن موقع پانے پرچُوکنے والے نہیں۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کافر میدان جنگ میں تمہارے مقابلے پر آئیں اور وہ تم سے لڑنے کی قدرت اور اہلیت رکھتے ہوں تو ان سے لڑو۔ اس صورت میں ضعیف ، بوڑھے، بچے، مجنون، اپاہج، اندھے، بیمار اور عورتیں وغیرہ جو جنگ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے(اور وہ جنگ میں نہ تو شریک ہیں اور نہ ہی جنگ کرنے والوں کی کسی قسم کی مدد کر رہے ہیں تو یہ افراد) اس حکم میں داخل نہ ہوں گے اور انہیں قتل کرنا جائز نہیں۔ (تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۰، ص۸۰)
{وَلَا تَعْتَدُوۡا: اور زیادتی نہ کرو۔}اس سے مراد ہے کہ جو جنگ کے قابل نہیں ان سے نہ لڑو یا جن سے تم نے عہد کیا ہو یا بغیر دعوت کے جنگ نہ کرو کیونکہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دی جائے، اگروہ ا نکار کریں توان سے جِزیَہ طلب کیاجائے اور اگرا س سے بھی انکار کریں تب جنگ کی جائے۔ اس معنی پر آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں۔ (تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۰، ص۸۱)