أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ‌ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے فرعون کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ‘ پھر ہم نے ان سب کو دریا میں ڈال دیا ‘ سو دیکھیے ظالموں کا کیسا انجام ہوا

اوراسی وجہسے اس آیت میں فرمایا : سو ہم نے فرعون کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ‘ پھر ہم نے ان سب کو دریا میں ڈال دیا۔

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہاں سمندر پر دریا کا اطلاق مجازاً ہے کیونکہ فرعون کو بحر قلزم میں غرق کیا گیا تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٥٦٢‘ دارالفکر)

یعنی ایک دن صبح کے وقت ہم نے ان سب کو سمندر میں غرق کردیا اور ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچا ‘ اور فرمایا : سو دیکھیے ظالموں کا کیسا انجام ہوا ‘ اور ہم نے ان کو ( کافروں کا) امام بنادیا جو لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ یعنی جو لوگ خدا کے منکر ہیں اور دہریے ہیں ‘ اور رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور فرعون کے راستہ اور اس کے طور طریقہ پر چلتے ہیں ‘ ہم نے فرعون کو ان کا پیشوا بنادیا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ‘ اور اس کے فرشتوں نے ان پر لعنت کی اور رسولوں کے پیروکاروں اور مومنوں نے ان پر لعنت کی اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اور قیامت کے دن وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔

قتادہ نے کہا یہ آیت ‘ اس آیت کی طرح ہے :

واتبعوافی ھذہ لعنۃ ویوم القیمۃ ط بئس الدفدالمرفود۔ ان پر اس دنیا میں بھی لعنت کی گئی اور آخرت میں بھی اور ان کو کیسا برا انعام دیا گیا۔ (تفسیر ابن کثیرج ٣ ص ٨٢٤۔ ٦٢٤‘ ملخصادارالفکر بیروت ‘ ٩١٤١ ھ)

فرعون نے خدا کو دیکھنے کے لیے بلند عمارت بنائی تھی یا نہیں فرعون نے خدا کو دیکھنے کے لیے بلند عمارت بنائی تھی یا نہیں 

سدی نے روایت کیا ہے جب وہ بلند قلعہ بنا لیا گیا تو فرعون ان قلعہ پر چڑھا اور آسمان کی طرف تیر پھینکے اور وہ تیر خون میں ڈوبے ہوئے واپس کر دئیے گئے تو فرعون نے کہا میں نے موسیٰ کا معبود کو قتل کردیا ہے۔(جامع البیان رقم الحدیث : ٤١٩٠٢‘ تفسیر امام ابن حاتم رقم الحدیث : ١٢٩٥١ )

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے کہ فرعون نے لوگوں کو اس وہم میں مبتلا کیا تھا کہ وہ قلعہ بنائے گا لیکن اس نے بنوایا نہیں تھا کیونکہ ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ وہ بلند سے بلند پہاڑ پر چڑھے پھر بھی اس کو آسمان اتنی ہی دور بلند نظر آتا ہے جتنا زمین سے بلندی پر نظر آتا ہے ‘ سو ایسی حرکت تو کوئی فاتر العقل اور مجنون ہی کرسکتا ہے اور سدی بہت ضعیف راوی ہے ‘ اس کی مذکور الصدرروایت صحیح نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٠٠٦۔ ٩٩٥‘ ملخصا ‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 40