أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَجَآءَتۡهُ اِحۡدٰٮہُمَا تَمۡشِىۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ قَالَتۡ اِنَّ اَبِىۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَـنَا‌ ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ ۙ قَالَ لَا تَخَفۡ‌ ۖ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پھر ان دونوں میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی اور کہا بیشک میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے جو ہمارے مویشیوں کو پانی پلایا ہے اس کی جزا دیں پس جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور ان کو سارا قصہ سنایا ( تو) انہوں نے کہا آپ فکر نہ کریں آپ ظالم لوگوں سے نجات پاچکے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ان دونوں میں سے ایک شرماتی ہوئی آئی اور کہا بیشک میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ نے جو ہمارے مویشیوں کو پانی پلایا ہے اس کی جزا دیں۔ پس جب موسیٰ ان کے پاس پہنچے اور ان کو سارا قصہ سنایا ( تو) انہوں نے کہا آپ فکر نہ کریں آپ ظالم لوگوں سے نجات پاچکے ہیں۔ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے کہا اے ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر رکھ لیجئے ‘ بیشک آپ جس کو اجرت پر رکھ لیجئے ‘ بیشک آپ جس کو اجرت ہر رکھیں گے ان میں بہترین وہی ہے جو طاقت ور اور ایماندار ہو۔ (القصص : ۲۶۔ ۲۵)

حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب کے گھر جانا 

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نام لیّا اور دوسری کا نام صفوریا ( یا صفوائ) تھا ‘ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان کے والد حضرت شعیب تھے۔ علامہ قرطبی کی بھی رائے ہے۔ امام رازی نے لکھا ہے کہ ان کے والد حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے یثرون تھے ‘ حضرت شعیب نابینا ہونے کے بعد فوت ہوگئے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے ‘ اور ابو عبید کا بھی یہی مختار ہے۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا زمانہ حضرت موسیٰ کے زمانہ سے بہت پہلے کا ہے لیکن زیادہ تر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان کے والد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی تھے۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ ظاہر قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص ٩٨٥‘ الجامع لا حکام القرآن جز ٣١ ص ٩٤٢ دارالکتب ‘ العربی ٠٢٤١ ھ ‘ تفسیر ابن کثیرج ٣ ص ٢٢٤ )

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لڑکیوں کے ساتھ جو ایثار اور احسان کیا تھا ‘ انہوں نے گھر جا کر اس کا ذکرا پنے بڑھے باپ سے کیا ‘ جس سے انہوں نے بھی اس احسان کا بدلہ احسان کے ساتھ دینا چاہا اور ان کو اپنے گھر بلایا۔

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے ان کو کھانا پیش کیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں کھانا نہیں کھاؤں گا ‘ میں نے یہ کام اللہ کر رضا کے لیے کیا ہے ‘ اور اگر تمام روئے زمین کو سونا بنادیا جائے تو میں اس کے عوض بھی اللہ کی رضا کے لیے کیے ہوئے کام کو فروخت نہیں کروں گا۔ حضرت شعیب نے کہا یہ آپ کے پانی پلانے کا معاوضہ نہیں ہے لیکن مسافروں کا کھانا کھلانا اور مہمان نوازی کرنا ہمارے آباء اجداد کا طریقہ ہے ‘ تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانا کھالیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 25