أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَاسۡتَوٰٓى اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب موسیٰ اپنی پوری قوت ( جوانی) کو پہنچ گئے اور توانا ہوگئے ‘ تو ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ اپنی پوری قوت (جوانی) کو پہنچ گئے اور توانا ہوگئے تو ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا اور ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اور موسیٰ اس وقت شہر میں داخل ہوئے جب لوگ غافل تھے اور وہاں انہوں نے دو مردوں کو لڑتے ہوئے پایا ‘ یہ (ایک) ان کی قوم میں سے تھا اور یہ ( دوسرا) ان کے مخالفین میں سے تھا ‘ سو جو ان کی قوم میں سے تھا اس نے موسیٰ سے اس کے خلاف مدد طلب کی جو ان کے مخالفوں میں سے تھا ‘ پس موسیٰ نے اس کے مکا مارا سو اس کو ہلاک کردیا ‘ موسیٰ نے کہا یہ کام شیطان کی طرف سے سرزد ہوا ‘ بیشک شیطان دشمن ہے اور کھلم کھلا بہکانے والا ہے۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی جان پر زیادتی کی سو تو مجھے معاف فرما ‘ پس اللہ نے اس کو معاف کردیا ‘ بیشک وہ بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھ پر انعام فرمایا ہے سو اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنو گا۔ (القصص : ۱۷۔ ۱۴ )

اشد اور استواء کے معنی کی تحقیق 

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بلغ اشدہ واستوی ‘ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ ان دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے یعنی جب حضرت موسیٰ اپنے طبعی ارتقاء کے کمال کو پہنچ گئے اور ان کا مزاج معتدل ہوگیا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ان لفظوں کے معنی الگ الگ ہیں اور ان کی تفصیل حسب ذیل ہے :

(١) اشد کا معنی ہے جسمانی اور بدنی قوت کا کمال اور استواء کا معنی ہے قوت عقلیہ کا کمال یعنی جب ان کا بدن اور ان کی عقل کامل ہوگئی۔

(٢) اشد کا معنی ہے ان کی قوت کا کمال اور استواء کا معنی ہے ان کی خلقت کا کمال ‘ یعنی جب ان کی قوت اور ان کی تخلیق اپنے کمال کو پہنچ گئی۔

(٣) اشد کا معنی ہے وہ بلوغت کو پہنچ گئے اور استواء کا معنی ہے ان کی تخلیق کامل ہوگئی یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو جہاں تک بنانا تھا وہاں تک بنادیا۔

(٤) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : عام طور پر انسان اٹھارہ سال سے تیس سال تک اشد ہوتا ہے اور اس کی قوت اور جسامت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور تیس سال چالیس کی عمر تک اسی حالت پر قائم رہتا ہے ‘ اس کی جسامت اور قوت میں زیادتی ہوتی ہے نہ کمی ‘ اور چالیس سال سے اس کی جسامت اور قوت میں کمی ہونا شروع ہوتی ہے۔

امام رازی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) کا ارشاد برحق ہے ‘ کیونکہ انسان کی عمر کی ابتداء سے اس میں نشونما شروع ہوتی ہے ‘ پھر وہ اسی حالت پر قائم رہتا ہے ‘ پھر اس کے بعد اس کا جسم کم ہونا شروع ہوتا ہے ‘ انسان کے جسم کی نشونما بیس سال کی عمر تک ہوتی ہے اور بیس سال سے تیس سال کی عمر تک نشونما بہت کم ہوتی ہے اور اس کی قوت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا رہتا ہے اور تیس سال سے چالیس سال تک وہ اسی حالت پر قائم رہتا ہے اور چالیس سال سے ساٹھ سال کی عمر تک اس کی جسامت میں کمی ہوتی ہے لیکن یہ کمی غیر واضح اور خفی ہوتی ہے اور ساٹھ سال سے آخر عمر تک اس کے جسم میں واضح کمی ہوتی ہے۔ (تفسیر کبیرجک ٨ ص ٣٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ سلیمان جمل نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی عمر اس وقت تیس (٠٣) سال تھی ‘ دس سال مدین میں رہے اور چالیس سال کی عمر میں ان کو نبوت عطا کی گئی۔ (جمل ج ٣ ص ٩٣٣)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

حق یہ ہے کہ اشد کا معنی ہے حد قوت تک پہنچ جانا اور یہ حد شہروں ‘ زمانوں اور احوال کے اختلاف سے مختلف ہوتی ہے اسی وجہ سے لغت اور تفسیر کی کتابوں میں اس کی مختلف تعبیرات ہیں اور اولیٰ یہ ہے کہ اشد کا معنی ہے بدن اور جسم کی قوت کا اپنے کمال کو پہنچنا اور نشو و نما کا رک جانا ‘ اور استواء کا معنی ہے عقل کا اپنے کمال اور اعتدال کو پہنچ جانا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بغیر کسی حدیث کے اشد اور استواء کے لیے کسی عمر کا تعین نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ چیز شہروں ‘ زمانوں اور احوال کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ (روض المعنی جز ٠٢‘ ص ٨٧۔ ٧٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

اس کی تحقیق کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے یا اس کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی جاتی ہے 

علامہ محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی المتوفی ٨٣٥ ھ لکھتے ہیں :

ہر بنی کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا جاتا ہے۔ (الکشاف ج ٣ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

امام محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ ہر نبی کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا گیا ہے اور اس کی حکمت ظاہر ہے کیونکہ جب انسان چالیس سال کی عمر میں پہنچ جاتا ہے تو اس کے غضب اور شہوت کی قوت کم ہونے لگتی ہے اور اس کی عقل بڑھنے لگتی ہے اور اس وقت انسان جسمانی اعتبار سے کامل ہوجاتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کرنے کے لیے اس عمر کو اختیار فرمایا۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص ٣٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

علامہ بیضادی متوفی ٥٨٦ ھ ‘ علامہ ابو سعود متوفی ٢٨٩ ھ ‘ نے بھی یہی لکھا ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا کی جاتی ہے۔ (تفسیرالبیضادی مع الکازرونی ج ٤ ص ٦٨٢‘ تفسیر ابن السعودج ٥ ص ٦١١)

اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ھ نے لکھا ہے :

مجھے یہ روایت نہیں ملی۔ (الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ج ٣ ص ٧٩٣)

علامہ احمد خفاجی حنفی متوفی ٩٦٠١ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں نبوت عطا کی۔

واتینہ الحکم صبیا۔ (مریم : ٢١) اور ہم نے اس کو بچپن میں نبوت عطا کی۔

اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تینتیس (٣٣) سال کی عمر میں مبعوث کیا گیا اور چالیس سال کی عمر میں آسمانوں پر اٹھایا گیا ‘ اس لیے چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا کرنے یا مبعوث کیے جانے کا حکم تغلیبی ہے۔ (یعنی یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اکثر یہ ہے) (عنایۃ القاضی ج ٧ ص ٥٨٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ٧٣١١ ھ لکھتے ہیں :

بعض علماء نے کہا ہے کہ انبیاء کو مبعوث کرنے کے لیے چالیس سال کی عمر کی شرط لگانا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تینتیس (٣٣) سال کی عمر میں نبی بنایا گیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اٹھارہ (٨١) سال کی عمر میں (جب ان کو کنوئیں میں گرایا گیا تھا) نبی بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت ان پر یہ وحی کی گئی تھی :

واوحینا الیہ لتنبئنھم بامرھم ھذاو ھم لایشعرون۔ (یوسف : ٥١) اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ (گھبراؤ نہیں) عنقریب تم ان کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو اس کی خبر بھی نہیں ہوگی۔

جمہور علماء کے نزدیک یہ وحی نبوت تھی اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بالغ ہونے سے پہلے نبوت دی گئی۔ (روح الیبان ج ٦ ص ٨٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

علامہ عبدالوہاب بن احمد بن علی الشعرانی الحنفی المتوفی ٣٧٩ ھ لکھتے ہیں :

جن لوگوں کو یہ شبہ ہوا کہ نبوت کسبی ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ انبیاء (علیہم السلام) اظہار رسالت سے پہلے یا تو مخلوق سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں یا پھر وہ عبادت کرتے ہیں یا پھر وہ عبادت کرتے ہیں اور ان میں وحی کو قبول کرنے کی استعداد اور صلاحیت ہوتی ہے تاکہ وہ اس حالت کی طرف لوٹ جائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقدر کی ہے ‘ سو جو لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ پہلے مخلوق سے کنارہ کش تھے اور عبادت کرتے تھے پھر ان کو نبوت حاصل ہوئی وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو نبوت ان کے کسب سے حاصل ہوئی لیکن یہ ان کا وہم ہے اور ان کی نظر کی کوتاہی ہے ‘ اور شیخ محی الدین ابن عربی متوفی ٨٣٦ ھ نے الفتوحات المکیہ کے باب : ٨٩٢ میں کہا ہے کہ جس نے یہ کہا ہے کہ نبوت کسب سے حاصل ہوتی ہے اس نے خطا کی ‘ نبوت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا کے ساتھ مختص ہے۔ (الیواقیت والجواہرص ٣٥٣۔ ٢٥٣‘ ملخصا ‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٨١٤١ ھ)

صدر الشریعۃ علامہ امجد علی اعظمی متوفی ٦٧٣١ ھ لکھتے ہیں :

نبوت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت و ریاضت کے ذریعہ حاصل کرسکے ‘ بلکہ محض عطائے الٰہی ہے کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے ‘ ہاں دیتا اسی کو جسے اس منصب عظیم کے قابل بناتا ہے جو قبل حصول نبوت تمام اخلاق رذیلہ سے پاک اور تمام اخلاق فاضلہ سے مزین ہو کر جملہ مدارج ولایت طے کر چکتا ہے اور اپنے نسب و جسم و قول و فعل و حرکات و سکنات میں ہر ایسی بات سے منزہ ہوتا ہے جو باعث ِ نفرت ہو اسے عقل کامل عطا کی جاتی ہے جو اوروں کی عقل سے بدرجہازائد ہے کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل اس کی لاکھویں حصہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالعہ (الانعام : ٤٢١) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ ( ترجمہ کنزالایمان)

ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ط واللہ ذوالفضل العظیم۔ الجمعۃ : ٤) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (کنزالایمان) 

اور جو اسے کسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب و ریاضت سے منصب بنوت تک پہنچ سکتا ہے کافر ہے۔ (بہار شریعت ج ا ص ٨‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ‘ ٦١٤١ ھ)

نیز علامہ امجد علی لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) شرک و کفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعث نفرت ہو جیسے کذب و خیانت و جہل وغیر ہاصفات ذمیمہ سے نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مروت کے خلاف ہیں قبل نبوت اور بعد نبوت بالا جماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمد صغائر سے بھی قبل نبوت اور بعد نبوت معصوم ہیں۔ (بہار شریعت ج ا ص ٨‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ‘ ٦١٤١ ھ)

عوام میں مشہور ہے کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے ‘ یہ صحیح نہیں ہے ‘ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں نبوت دی گئی ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اٹھارہ (٨١) سال کی عمر میں ‘ حضرت عیسیٰ کو تینتیس (٣٣) سال کی عمر میں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس (۴۰) سلا کی عمر میں نبوت دی گئی ‘ اور اکثر نبیوں کو چالیس (۴۰) سال کی عمر میں ہی نبوت دی گئی ہے ‘ صدر الشریعۃ کی عبارت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے ‘ خصوصاً انہوں نے قبل نبوت اور بعد نبوت کی قید جو لگائی ہے۔ (بتیان القرآن ج ٣ ص ٨٤٦۔ ٦٤٦‘ اور بتیان القرآن ج ا ص ٩١٦۔ ٨١٦ کا بھی مطالعہ کریں)

ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تخلیق ِ کائنات سے پہلے نبوت سے متصف ہونا 

ہمارے نبی سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدائشی نبی ہیں بلکہ آپ کو پیدائش سے بھی پہلے نبی بنادیا گیا تھا ‘ حدیث میں ہے : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا اس وقت حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٠٦٣‘ المستدرک ج ٢ ص ٩٠٦‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٠٣١‘ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی رقم الحدیث : ٦٥٨١)

حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا اور اس وقت حضرت آدم اپنی مٹی کے خمیر میں تھے ‘ اور میں عنقریب تم کو اپنی ابتداء کے متعلق بتاؤں گا (میں) حضرت ابراہیم کی دعا ہوں اور حضرت عیسیٰ کی بشارت ہوں اور میں اپنی ماں کا وہ خوب ہون جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا ‘ ان کے لیے ایک نور نکلا جس سے ان کے لیے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ (شرح النۃ رقم الحدیث : ٦٢٦٣‘ مسند احمد ج ٤ ص ٧٢١‘ المعجم الکبیرج ٨١ رقم الحدیث : ٢٥٢‘ مسند البز اررقم الحدیث : ٥٦٣٢‘ دلائل الغبوۃ للبیہقی ج ا ص ٩‘ البدلیۃ دالنہایہ ج ٢ ص ٠٩٢‘ طبع جدید)

علامہ عبدالوہاب بن احمد بن علی الشعرانی الحنفی المتوفی ٣٧٩ ھ لکھتے ہیں :

اگر تم یہ پوچھو کہ آیا سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور کو بھی اس وقت نبوت دی گئی جب حضرت آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم تک یہ حدیث نہیں پہنچی کہ کسی اور کو بھی یہ مقام دیا گیا ‘ باقی انبیاء صرف اپنی رسالت کے ایام محسوسہ میں ہی نبی تھے ‘ اگر تم یہ پوچھو کہ آپ نے کیو نہیں فرمایا کہ میں اس وقت بھی انسان تھا ‘ یا اس وقت بھی موجود تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خصوصیت کے ساتھ نبوت کا ذکر یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ آپ کو تمام انبیاء سے پہلے نبوت دی گئی ‘ کیونکہ نبوت اسی وقت ملتی ہے ‘ جو اس کے لیے اللہ کے نزدیک وقت مقرر ہوتا ہے۔

نیز علامہ شعرانی نے لکھا کہے کہ شیخ محی الدین ابن عربی نے الفتوحات المکیہ میں لکھا ہے کہ تمام انبیاء اور مرسلین کے مدد طلب کرنے کی جگہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح ہے کیونکہ آپ ہی قطب الاقطاب ہیں ‘ اور آپ ہی تمام اولین اور آخرین لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں اور آپ ہی ہر نبی اور ولی کی مدد کرنے والے ہیں خواہ ان کا ظہور آپ سے پہلے ہو جب آپ غیب میں تھے ‘ یا آپ کے بعد ہو جب آپ عالم شہادت میں ظاہر ہوگئے اور یا جب آپ برزخ میں منتقل ہوچکے ہیں کیونکہ آپ کی رسالت کے انوار متقدمین اور متاخرین کے عالم سے کبھی منقطع نہیں ہوئے۔

اگر تم یہ کہو کہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سے سے پہلے میر نور کو پیدا کیا اور ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا کیا تو ان میں کس طرح تطبیق ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں حدیثوں کا معنی واحد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقیقت کو کبھی عقل سے تعبر فرمایا اور کبھی نور سے۔ (الیواقیت والجواہرص ٩٣٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیرو ٨١٤١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ٠٧٢١ ھ لکھتے ہیں :

بلکہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وجود کا فیضان کرنے کے لیے تمام موجودات کے لیے وسیلہ ہیں ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) کے واسطہ سے تمام مخلوق پر جو فیضان ہوا ہے اس کے لیے بھی آپ وسیلہ ہیں کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) آپ کے انوار کی شعاعیں ہیں اور آپ کے انوار کے عکوس ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی النورالحق اور النبی المطلوق ہیں اور آپ اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے ‘ اور جب انبیاء ارحام اور اصلاب کے حجاب میں تھے اس وقت بھی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیض لے رہے تھے اور اس وقت بھی جب وہ اس عالم میں ظاہر ہوئے اور اس آپ حجاب میں تھے جیسے جب رات کو ستارے ظاہر ہوتے ہیں اور سورج ظاہر نہیں ہوتا لیکن وہ ستارے اسی کے فیض سے روشن ہوتے ہیں ‘ اور جب سورج ظاہر ہوتا ہے تو ستارے چھپ جاتے ہیں اسی طرح جب آپ اس عالم میں جلوہ گر ہوئے تو تمام انبیاء چھپ گئے اور ان کی شریعتیں منسوخ ہوگئیں اور صرف آپ کی شعریعت باقی رہی۔ (روح المعانی جز ٥١ ص ٣٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الست بربکمتو سب سے پہلے آپ کی روح نے بلٰی کہا۔ (روح المعانی جز ٩ ص ٢٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ٧١٤١ ھ)

حضرت موسیٰ کو حکم اور علم دینے کا معنی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور جب موسیٰ اپنے پوری قوت (جوانی) کو پہنچ گئے اور توانا ہوگئے تو ہم نے ان کو حکم اور علم عطا فرمایا : (القصص : ٤١ )

حکم اور علم کی تفسیر میں علامہ ابوعبداللہ قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب ان کی عمر چالیس سال ہوگئی ‘ اور حکم سے مراد ہے وہ حکمت جو ان کو نبوت سے پہلے دی گئی ‘ اور علم سے مراد ہے دین کی فقہ ‘ امام محمد بن اسحاق نے کہا ان کو ان کے دین اور ان کے آباء کے دین کا علم دیا گیا ‘ اور نبی اسرائیل میں سے جو (٩) آدمی تھے جو ان کے احکام سنتے تھے اور ان کے اقتداء کرتے تھے اور ان کے پاس بیٹھتے تھے اور یہ ان کو نبوت دے جانے سے پہلے کا معاملہ تھا۔ ( الجامع لا حکام القرآن جز ٣١ ص ٩٣٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 14