فَاِذَا قَضَیۡتُمۡ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنْ خَلٰقٍ﴿۲۰۰﴾

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔  

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرلوتو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ (ذکر کرو) اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دیدے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ 

{فَاذْکُرُوا اللہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ: تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے۔} زمانہ جاہلیّت میں عرب حج کے بعد کعبہ کے قریب اپنے باپ دادا کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔ (صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۰، ۱/۱۷۰)

اسلام میں بتایا گیا کہ یہ شہرت و خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں ، اس کی بجائے ذوق وشوق کے ساتھ ذکر ِالٰہی کرو ۔ اس آیت سے بلند آواز سے ذکر کرنا اور لوگوں کا اکٹھے مل کر ذکر کرنا دونوں ثابت ہوتے ہیں کیونکہ عرب لوگ اپنے باپ دادا کا ذکر بلند آواز سے کرتے تھے اور مجمع میں کرتے تھے۔ 

{فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ:کچھ لوگ کہتے ہیں۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت میں دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک وہ کافر جن کی دعا میں صرف طلبِ دنیا ہوتی تھی اورآخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں۔ 

دنیا کی بہتری طلب کرنے کا حکم :

یاد رہے کہ مومن اگر دنیا کی بہتری طلب کرتا ہے تووہ بھی جائز ہے اور یہ طلب ِ دنیا اگردین کی تائید و تَقْوِیَت کے لئے ہو تو یہ دعا بھی امورِدین سے شمار ہوگی۔لیکن یہ یاد رہے کہ آخرت کو اصلا ًفراموش کرکے صرف دنیا مانگنا بہر حال مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ دنیا کے طلبگاروں اور آخرت کے طلبگاروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصْلٰىہَا مَذْمُوۡمًا مَّدْحُوۡرًا ﴿۱۸﴾ وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿۱۹﴾(بنی اسرائیل:۱۸،۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:جو جلدی والی (دنیا)چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
نیز ایک اورمقام پر صرف دنیا کی رنگینیوں میں مگن رہنے والوں سے اور اس کے بعد جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر اور افضل چیزہے اس کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیۡنَ وَالْقَنٰطِیۡرِ الْمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیۡلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالۡاَنْعٰمِ وَالْحَرْثِؕ ذٰلِکَ مَتٰعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاۚ وَاللہُ عِنۡدَہٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ﴿۱۴﴾ قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمْؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوْا عِنۡدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّرِضْوٰنٌ مِّنَ اللہِؕ وَاللہُ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ﴿ۚ۱۵﴾ (ال عمران: ۱۴،۱۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔(اے حبیب!)تم فرماؤ ، (اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟ (سنو، وہ یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور (وہاں ) پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔