وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ یُشْہِدُ اللہَ عَلٰی مَا فِیۡ قَلْبِہٖۙ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴿۲۰۴﴾ وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَؕ وَ اللہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ﴿۲۰۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر اللہکو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔اور جب پیٹھ پھیرکر جاتا ہے توکوشش کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیت اور مویشی ہلاک کرے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ 

{مَنۡ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ: جس کی گفتگو تجھے اچھی لگتی ہے۔} شانِ نزول: یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۱/۱۴۴-۱۴۵)

یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں : 

(1)…ظاہری طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا،

(2)…اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا،

(3)…جھگڑالو ہونا،

(4)… فساد پھیلانا،

(5)…لوگوں کے اموال برباد کرنا،

(6)…نصیحت کی بات سن کر قبول کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں ،

بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔