کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وّٰحِدَۃً ۟ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ۪ وَ اَنۡزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ فِیۡمَا اخْتَلَفُوۡا فِیۡہِؕ وَمَا اخْتَلَفَ فِیۡہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡہُ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢابَیۡنَہُمْۚ فَہَدَی اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخْتَلَفُوۡا فِیۡہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖؕ وَاللہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ﴿۲۱۳﴾

ترجمۂ  کنزالایمان: لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس کی سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: تمام لوگ ایک دین پر تھے تو اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے ہوئے اور ڈر سناتے ہوئے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات میں فیصلہ کردے اورجن لوگوں کو کتاب دی گئی انہوں نے ہی اپنے باہمی بغض و حسد کی وجہ سے کتاب میں اختلاف کیا (یہ اختلاف )اس کے بعد(کیا) کہ ان کے پاس روشن احکام آچکے تھے تو اللہ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے اُس حق بات کی ہدایت دی جس میں لوگ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔

{كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً:تمام لوگ ایک دین پر تھے۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عہد تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے، پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالٰی نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمایا ،یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں،(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۳، ۱ / ۱۵۰)

رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاسلسلہ شروع ہوا ۔ نیز لوگوں کی ہدایت کیلئے بہت سے انبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتابیں اور صحیفے عطا کئے گئے جیسے حضرت آدم ،حضرت شیث اور حضرت ادریس عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر صحیفے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر توریت ،حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زبور، حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر انجیل اور خاتَم الانبیاء محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر قرآن نازل فرمایا۔انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہدایات آجانے کے بعد بھی لوگوں نے اختلاف کیا جیسے یہودونصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا اور آپس کے حسد کی وجہ سے کتاب اللہ کو بھی مشقِ ستم بنانے سے باز نہ آئے۔یہاں تک کہ اللہ  تعالٰی نے مسلمانوں کو حضور پرنور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے حق کی ہدایت فرمائی چنانچہ یہودو نصاریٰ کو جن باتوں میں اختلاف تھا ان میں جو حق تھا اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو وہ سمجھادیا۔