اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی، پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔

{اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ : کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔} یہ آیت غزوۂ احزاب کے متعلق نازل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں۔(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۵، ۲ / ۲۷، الجزء الثالث)

 اس میں انہیں صبر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا ہمیشہ سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ہیں۔بخاری شریف میں حضرت خَبّاب بن ارت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے ،ہم نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کی کہ یارسول اللہ!  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، ہمارے لیے کیوں دعا نہیں فرماتے؟ ہماری کیوں مدد نہیں کرتے؟ ارشادفرمایا: تم سے پہلے لوگ گرفتار کیے جاتے تھے، زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے،آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے لیکن ان میں سے کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام،  ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۲)

{وَ زُلْزِلُوْا: اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا۔} سابقہ امتوں کی تکلیف و شدت اس انتہاء کو پہنچ گئی کہ فرمانبردار مومن بھی مدد طلب کرنے میں جلدی کرنے لگے اور اللہ کے رسولوں نے بھی اپنی امت کے اصرار پر فریاد کی حالانکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت ان کے حال کو مُتغَیّر نہ کرسکی چنانچہ ان کی فریاد پر بارگاہِ الہٰی سے جواب ملا کہ سن لو، بیشک اللہ تعالٰی کی مدد قریب ہے ، اس جواب سے انہیں تسلی دی گئی اور یہی تسلی حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو دی گئی۔ اس آیت اور تفسیر میں مبلغین کیلئے اور نئے مسلمان ہونے والوں کے لئے اور نئے نئے کسی نیکی کے ماحول اپنانے والوں کیلئے تسلی اور بشارت ہے کہ وہ صبرواستقامت کے ساتھ اپنی تبلیغ، دین اور نیکی پر چلتے رہیں۔