كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہواور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہواور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے اورقریب ہے کہ کوئی بات تمہیں ناپسند ہوحالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہواور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہواور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔  

{ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ:تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے۔} جہاد فرض ہے جب اس کے شرائط پائے جائیں اور اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر حملہ کردیں تو جہاد فرض عین ہوجاتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔ فرمایا گیا کہ تم پر جہاد فرض کیا گیا اگرچہ یہ تمہیں طبعی اعتبار سے ناگوار ہے اور تمہارے اوپر شاق ہے لیکن تمہیں طبعی طور پر کوئی چیز ناگوار ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ چیز ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہے جیسے کڑوی دوائی، انجکشن اورآپریشن طبعی طور پر ناپسند ہوتے ہیں لیکن نقصان دہ نہیں بلکہ نہایت فائدہ مند ہیں۔ یونہی کسی چیز کا تمہیں پسند ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اچھی اور مفید ہے۔ بچے کو پڑھائی کی جگہ ہر وقت کھیلتے رہنا پسند ہوتا ہے ، شوگر کے مریض کو مٹھائی پسند ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں یہ چیزیں اس کیلئے مفید بھی ہیں بلکہ نقصان دہ ہیں۔ لہٰذا اے مسلمانو! اچھا یا برا ہونے کا مدار اپنی سوچ پر نہ رکھو بلکہ اللہ  تعالٰی کے حکم پر رکھو۔ اللہ تعالٰی نے جس چیز کا حکم دیا وہ بہرحال ہمارے لئے بہتر ہے اور جس سے منع فرمایا وہ بہرحال ہمارے لئے بہتر نہیں ہے۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون سورہ نساء آیت 19میں بھی ہے۔