أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا جس کو سہ حاصل کرنے والا ہے ‘ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیاوی زندگی کی چیزیں دیں پھر وہ قیامت کے دن ( مجرموں کے ساتھ) حاضر کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا جس کو سہ حاصل کرنے والا ہے ‘ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیاوی زندگی کی چیزیں دیں پھر وہ قیامت کے دن ( مجرموں کے ساتھ) حاضر کیا جائے گا۔ ( القصص : ۶۱)

مومن اور کافر کی دنیا اور آخرت میں تقابل 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور ابوجہل بن ہشام کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ مجاہد نے کہا یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوجہل کے متعلق نازل ہوئی ہیں اور محمد بن کعب نے کہا یہ آیت حمزہ اور حضرت علی اور ابوجہل اور عمارۃ بن الولید کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (جامع البیان جز ٠٢ ص ٩١١)

اور صحیح یہ ہے کہ یہ آیت ہر مومن اور ہر کافر کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ کافروں کو دنیا میں بہت عیش و آرام اور وسعت دی گئی ہے ‘ اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ ہے اور ہر مومن اللہ تعالیٰ کے اجر وثواب کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے دنیا کے مصائب و آلام برداشت کرتا ہے اور آخرت میں ان کے لیے جنت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 61