ایک اعرابی دربار رسول میں

اہل اسلام کا چودہ سوسال سے یہی عقیدہ ہے کہ سرکار ہی ہر درد کی دوا، ہر مرض کا علاج، ہرغم کا مداوا ہیں، دین ودنیا کی سب حاجتیں اسی مقدس در پر پوری ہوتی ہیں۔ سلَف اور خلَف ہر ایک کا یہی ایمان و عقیدہ ہے۔ دَورِ قدیم میں اہل ایمان اپنی حاجتیں لیکر کس طرح دربار عالی میں حاضر ہوتے تھے۔ اس کے ثبوت میں یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔

محمد بن عبد اللہ العتبیٰ بیان فرماتے ہیں کہ مجھے مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہوئی مواجہہ مقدسہ میں حاضر تھا۔ حضور اقدسﷺ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے کے بعد ایک جانب گوشہ میں بیٹھا ہواتھا، اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدوِی( دیہاتی) اونٹ پر سوار ہوکر آیا اور سرکار اقدس اکے روبرو اس طرح گویا ہوا: یَا خَیْرَ الرُّسُلِ! آپ پر اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام نازل فرمایاہے جس میں ہے : وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَائُ وْکَ‘‘ یعنی اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہو ںاور پھر اللہ سے معافی مانگیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پائیں گے۔ (سورئہ نساء آیت ؍۶۴)

اور کہا کہ اے اللہ کے حبیب امیں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور اس میں آپ کی شفاعت چاہتا ہوں اتنا کہتے کہتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں، وہ رونے لگا، اسی عالم میں یہ اشعار پڑھا۔

یَاخَیْرَ مَنْ دُفِنَتْ بِالْقَاع اَعْظُمُہٗ

فَطَابَ مِنْ طِیْبِھِنَّ الْقَاعُ وَالْاَ کَمٗ

نَفْسِیْ الفِدَائُ لِقَبْرٍاَنْتَ سَاکِنُہٗ

فِیْہِ العِفَافُ وَفِیْہِ الجُوْدُ وَ الکَرَمٗ

اَنْتَ الشَّفِیْعُ الَّذِیْ تُرْجٰی شَفَاعَتُہٗ

عَلَی الصِّرَاطِ اِذَا مَا زَالَتِ القَدَمٗ

وَصَاحِبَاکَ لاَ اَنْسَاھُمَا اَبَداً

مِّنِّیْ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ مَا جَرَی القَلَمٗ

یعنی: اے بہترین ذات !ان سب میں جن کی ہڈیاں ہموار زمین میں دفن کی گئیںاور ان کی وجہ سے عمدگی اور نفاست زمین اور ٹیلوں میں پھیل گئی۔ میری جان قربان!اس مبارک قبر پر جس میں آپ راحت گزیں ہیں، اس میں عفت ہے، جود وسخااور انعامات واکرامات ہیں۔ آپ ایسے شفیع ہیں جن کی شفاعت کے ہم امید وار ہیں۔ جس وقت پل صراط پر لوگوں کے قدم پھسل رہے ہونگے اور آپ کے دو ساتھیوں کو تو میں کبھی نہیں بھول سکتامیری طرف سے آپ سب پر سلام ہوتا رہے جب تک دنیا میں لکھنے کیلئے قلم چلتا رہے۔

اس کے بعد اس بدو ی نے استغفار کیا اور وہا ں سے رخصت ہوگیا۔ (راوی کہتے ہیں )کہ اسی دوران وہاںب یٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی میں خواب میں حضور کی زیارت سے مشرف ہوا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جائو اس بدوی سے کہہ دو کہ میری شفاعت سے رب تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرمادی۔ (شفاء السقام فی زیارت خیر الانام ص؍۱۶)

علامہ نعیم الدین مرادا بادی علیہ الرحمہ خزائن العرفان میں آیت’’ وَ لَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا‘‘ الخ۔ ۔ ۔ ۔ کی تفسیر میں اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ اس سے چند مسائل معلوم ہوئے۔

مسئلہ: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض حاجت کے لئے اس کے مقبولوں کا وسیلہ بنانا ذریعۂ کامیابی ہے۔

٭ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی ’’جَائُ وْکَ ‘‘میں داخل ہے اور خیر القرون کا معمول ہے۔

٭ مقبولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہو تی ہے۔

٭ بعد وفات مقبولانِ حق کو ’’یا‘‘کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے۔ (خزائن العرفان )