أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُ‌ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ‌ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جو چاہتا ہے پسند کرتا ہے ‘ اس میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ اللہ پاک ہے اور ان چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جو چاہتا ہے پسند کرتا ہے ‘ اس میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ اللہ پاک ہے اور ان چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اور آپ کا رب ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جن چیزوں کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور وہی اللہ ہے اس کو سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ دنیا اور آخرت میں اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (القصص : ۷۰۔ ۶۸)

جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمالیا 

اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جو چاہتا ہے پسند کرتا ہے۔۔ (القصص : ۶۸)

حضرت واثلۃ بن الاسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو پسند کرلیا ‘ اور کنانہ سے قریش کو پسند کرلیا اور قریش سے بنی ہاشم کو پسند کرلیا اور بنو ہاشم سے مجھے پسند کرلیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٧٢٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥٠٦٣‘ مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٥٨٤٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٤٢٦‘ المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ١٦١‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص ٦٦١‘ شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣١٦٣ )

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے میرے اصحاب کو نبیوں اور رسولوں کے سوا تمام جہانوں میں سے پسند فرما لیا ‘ اور میرے اصحاب میں سے چارکو پسند فرمالیا یعنی ابوبکر ‘ عمر ‘ عثمان اور علی ( رض) کو اور میری امت میں سے چار قرن پسند فرمالیے ‘ پہلا ‘ دوسرا ‘ تیسرا اور چوتھا۔ (مسند لبز اور رقم الحدیث : ٣٦٧٢‘ مجمع الزوائد ج ٠١ ص ٦١‘ تاریخ بغداد ج ٣ ص ٢٦١ )

استخارہ کے متعلق احادیث 

فرمایا وہ جو چاہتا ہے پسند کرتا ہے اس میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ بندوں کو کسب کے سوا کسی چیز کا اختیار نہیں ہے ‘ یعنی وہ جس چیز کا ارادہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس چیز کو پیدا کردیتا ہے۔

زمخشری نے اس آیت کی تفسیر میں کہا اللہ تعالیٰ کو اپنے افعال میں اختیار ہے وہ اپنے افعال کی حکمتوں کو خود ہی جانتا ہے۔ بعض علماء نے کہا بندوں نے جب کوئی کام کرنا ہو تو اس وقت تک کوئی کام نہ کریں جب تک اس کام کے متعلق استخارہ نہ کرلیں ‘ حدیث میں ہے :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ‘ جس طرح ہمیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ‘ آپ فرماتے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو وہ دو رکعت نفل نماز پڑھے ‘ پھر یہ دعا کرے ‘ اے اللہ ! میں تیرے علم سے خیر کو طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت سے قدرت کو طلب کرتا ہوں ‘ اور تیرے فضل عظیم سے سوال کرتا ہوں ‘ کیونکہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں ہوں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا ‘ اور تو علاّم الغیوب ہے ‘ اے اللہ ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور معاش میں اور میرے انجام کار میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کام کو میرے لیے مقدر کر دے اور اس کو میرے لیے آسان کردے اور میرے لیے اس میں برکت رکھ دے ‘ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور معاش میں اور میرے انجام کار میں برا ہے تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھ کو اس سے دور کردے اور میرے لیے خیر کو مقدر کر دے خواہ دہ کہیں ہو پھر مجھ سے راضی ہوجا ‘ اور جرمایا کہ دعا کرنے والا اپنی حاجت اور اپنے کام کا ذکر کرے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦١١‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٨٣٥١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٠٨٤‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٢٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٣‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٤٣‘ سنن کبریٰ للبیہقی ج ٣ ص ٢٥ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کام کا ارادہ کرتے اے اللہ ! اس کام کو میرے لیے پسند فرما اور اس کو میرے لیے اختیار فرما۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦١٥٣‘ مسند ابویعلیٰ رقم الحدیث : ٤٤‘ کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٢ ص ٧٩‘ الکامل لابن عدی ج ٣ ص ٠٩٠١‘ شرح مسند رقم الحدیث : ٧١٠١)

النضربن انس اپنے دادا سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس جب تم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرو ‘ تو اپنے رب سے سات مرتبہ استخارہ کرو ‘ پھر یہ غور کرو کہ تمہارا دل کس چیز کی طرف مائل ہوتا ہے ‘ سو بیشک خیر اسی میں ہے۔ ( عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی المتوفی ٤٦٣ ھ ‘ ص ١١٢‘ رقم الحدیث : ٨٩٥‘ مؤسسۃ الکتب الثقافیہ ‘ ٨٠٤١ ھ)

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں علماء نے کہا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تمام تفکرات سے خالی کرے حتیٰ کہ وہ کسی چیز کی طرف مائل نہ ہو ‘ پھر دیکھے کہ اس کا دل اس کام کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس طرف اس کا دل مائل ہو خیر اسی میں ہے۔ ( الجامع لاحکام القرآن جز ٣١ ص ٣٧٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ٠٢٤١ ھ جز ٣١ ص ٢٨٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

استخارہ کا طریقہ 

سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ٢٥٢١ ھ لکھتے ہیں :

علامہ نووی نے الاذکار میں لکھا ہے کہ استخارہ کرنے کے لیے جو نماز پڑھے تو اس کی پہلی رکعت میں سورة الکافرون پڑھے ‘ اور دوسری رکعت میں سورة الاخلاص پڑھے ‘ بعض سلف سے منقول ہے کہ پہلی رکعت میں وربک یخلق ما یشاء ویختار یعلنون تک القصص : ۶۹۔ ۶۸ بھی پڑھے ‘ اور دوسری رکعت میں ماکان لمومن ولامومنۃ ‘(الاحزاب : ۳۶) بھی پڑھے ‘ بعض مشائخ سے یہ سنا گیا ہے کہ وہ دو رکعت نماز پڑھے اور حدیث میں جس دعا کی تعلیم دی گئی ہے وہ دعا پڑھے پھر باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے سو جائے ‘ پھر اگر اس کو خواب میں سفید رنگ کی یا ہرے رنگ کی کوئی چیز نظرآئے تو اس میں خیر ہے اور اگر سرخ یا سیاہ رنگ کی کوئی چیز نظر آئے تو اس میں کام میں شر ہے اس سے اجتناب کرے۔(ردالمحتارج ٢ ص ٠١٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٩١٤١ ھ)

اگر پہلی بار استخارہ کرنے کے بعد اس کو کچھ نظر نہ آئے تو سات بار یہ عمل دہرائے ‘ اگر سات باردہرانے کے باوجود اس کو کچھ نظر نہ آئے تو جس کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اس کا دل جم جائے اس کے موافق عمل کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 68