نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘-وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۲۲۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں ، تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہواور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہوآؤ اور اپنے فائدے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہواور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہواور اے حبیب ! ایمان والوں کوبشارت دو۔  

{نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ:تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں۔}عورتوں سے متعلق فرمایا کہ وہ تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی عورتوں کی قربت سے نسل حاصل کرنے کا ارادہ کرو ،نہ کہ صرف اپنی خواہش پوری کرنے کا۔ نیز عورت سے ہر طرح ہم بستری جائز ہے لیٹ کر، بیٹھ کر ، کھڑے کھڑے ، بشرطیکہ صحبت اگلے مقام میں ہو کیونکہ یہی راستہ کھیتی یعنی اولاد کا ثمرہ حاصل کرنے کا ہے۔

{وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ:اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو۔} اس سے مراد ہے کہ اعمال صالحہ کرویا جماع سے قبل بسم اللہ پڑھو نیز بیویوں میں مشغول ہو کر عبادات سے غافل نہ ہو جاؤ۔

اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھنے کی دعا:

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے ،حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو کہے:

’’بِسْمِ اللہِ اَللّٰہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ‘‘

اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، ہمیں شیطان سے محفوظ رکھنا اور اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے۔

 پس (یہ دعا پڑھنے کے بعد صحبت کرنے سے) جو بچہ انہیں ملا اسے شیطان نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔(بخاری، کتاب الوضو ء، باب التسمیۃ علی کلّ حال وعند الوقاع، ۱ / ۷۳، الحدیث: ۱۴۱)