لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(۲۲۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑ تا ان قَسَموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دل نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے قصد کیا ہواور اللہ بہت بخشنے والا،بڑا حلم والا ہے۔

{لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ: اور اللہ  ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے۔} قسم تین طرح کی ہوتی ہے:

(۱) لَغو ۔

(۲) غموس۔

(۳) مُنعقدہ ۔

(1)… لغویہ ہے کہ کسی چیز کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائی اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔

(2)… غموس یہ ہے کہ کسی گزری ہوئی چیز پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، یہ حرام ہے اور احادیث میں اس پر سخت وعیدیں ہیں۔

(3)… منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ چیزپر قسم کھائے، اس قسم کو اگر توڑے تو بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھا ہے کہ قصد و بے قصد زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی، یہ سخت معیوب ہے(بہار شریعت، حصہ نہم، قسم کا بیان، ۲ / ۲۹۸)۔([ قسم کے مسائل جاننے کے لئے امیرِ اہلِسنّتدَامَت بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے’’قسم کے بارے میں سوال جواب‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے۔])