لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍۚ-فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور وہ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھابیٹھیں ان کیلئے چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ:اور وہ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھابیٹھیں۔} یہ قسم کھانا کہ میں اپنی بیوی سے چار مہینے تک یا کبھی صحبت نہ کروں گا اسے اِیلاء کہتے ہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑدے اور چار ماہ کے اندر صحبت کرلے تب تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے ورنہ چار ماہ کے بعد عورت کو طلاق بائنہ پڑ جائیگی اس آیت میں اسی کا بیان ہے۔ ایلاء کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت،حصہ8سے ’’ایلاء کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔