وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۳۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ  اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی(عدت کی) مدت پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والیو! انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ آپس میں شریعت کے موافق رضا مند ہوجائیں۔یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ کام ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

{وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو۔} حضرت مَعْقِل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہوا تھا انہوں نے ایک طلاق دیدی لیکن عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے نکاح کی درخواست کی تو حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری ، کتاب النکاح، باب من قال لا نکاح الّا بولیّ، ۳ / ۴۴۲، الحدیث: ۵۱۳۰)

آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کسی عورت کی عدت گزر جائے اور عدت کے بعد وہ عورت کسی سے نکاح کا ارادہ کرے خواہ وہ کوئی نیا آدمی ہو یا وہی ہو جس نے طلاق دی تھی تو اگر وہ مردو عورت باہم رضامند ہیں تو عورت کے سرپرستوں کو بلاوجہ منع کرنے کا حق نہیں۔ اس حکم کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ ہر اس آدمی کو نصیحت کی جارہی ہے جو اللہ تعالٰی اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ مزید فرمایا کہ اس حکم پر عمل کرنا تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی و طہارت کا باعث ہے کیونکہ بعض اوقات سابقہ تعلقات کی وجہ سے عورتیں غلط قدم بھی اٹھالیتی ہیں جو بعد میں سب کیلئے پریشانی کا باعث بنتا ہے ،اس لئے عورتوں کو مزید نکاح سے بلاوجہ منع نہ کرو۔ تمہاری حقیقی حکمت و مصلحت کو تم نہیں جانتے ،اللہ تعالٰی جانتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اگر عورت غیر کُفو میں بغیر اجازتِ ولی نکاح کرے تو وہاں اولیاء کا حق ہوتا ہے۔ تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ 7میں ’’کفو کا بیان ‘‘ مطالعہ کریں۔