وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۳۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو اے والیوتم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ  کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں تو جب وہ اپنی(اختتامی) مدت کو پہنچ جائیں تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کرلیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

{وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ:اور تم میں سے جو مرجائیں۔}سورہ بقرہ آیت 229 کی تفسیر میں عورتوں کی عدتوں کا بیان گزر چکا ہے۔ یہاں آیت میں فوت شدہ آدمی کی بیوی کی عدت کا بیان ہے کہ فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی۔(فتاوی رضویہ، ۱۳ / ۲۹۴-۲۹۵)

  یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے۔

عدت کے3 اہم مسائل:

(1)…شوہر کی وفات کی یا طلاقِ بائن کی عدت گزارنے والی دورانِ عدت نہ گھر سے باہر نکل سکتی اورنہ بناؤ سنگھار کرسکتی ہے خواہ زیور سے کرے یا رنگین و ریشمی کپڑوں سے یا خوشبو ، تیل اور مہندی وغیرہ سے ۔ اگر کوئی عورت عدت کی پابندیاں پوری نہ کرے تو جو اسے روکنے پر قادر ہے وہ اسے روکے، اگر نہیں روکے گا تو وہ بھی گناہگار ہوگا۔

(2)…جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہواس کو زینت اور سنگار کرنا مستحب ہے۔

(3)… وفات کی عدت گزارنابیوی پر مُطلقاً لازم ہے خواہ جوان ہو یا بوڑھی یا نابالغہ، یونہی عورت کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ مزید تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ8کا مطالعہ کریں۔

{فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:تو اے والیو! تم پر اس کام میں کوئی حرج نہیں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شریعت کے مطابق کرلیں۔} اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو اپنے معاملات کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور وہ خود بھی اپنا نکاح کرسکتی ہیں البتہ مشورے سے چلنا بہرحال بہتر ہے۔