وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۬ؕ-وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠(۲۳۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں معروف ہے اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے اور جان لو کہ اللہ  تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ  بخشنے والا حلم والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں جو اشارے کنائے سے تم عورتوں کو نکاح کا پیغام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو۔ اللہکو معلوم ہے کہ اب تم ان کا تذکرہ کرو گے لیکن ان سے خفیہ وعدہ نہ کررکھو مگر یہ کہ شریعت کے مطابق کوئی بات کہہ لو اور عقد ِنکاح کو پختہ نہ کرنا جب تک (عدت کا) لکھا ہوا (حکم) اپنی (اختتامی) مدت کو نہ پہنچ جائے اور جان لو کہ اللہ  تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ  بہت بخشنے والا،حلم والا ہے۔

{وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ: اور تم پر کوئی گناہ نہیں۔}آیت میں عدت ِ وفات گزارنے والی عورت کا حکم بیان کیا جارہا ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کرنا یا نکاح کا کھلا پیغام دینایا نکاح کا وعدہ کرلینا توحرام ہے لیکن پردے کے ساتھ خواہشِ نکاح کا اظہار گناہ نہیں مثلاً یہ کہے کہ تم بہت نیک عورت ہو یا اپنا ارادہ دل ہی میں رکھے اور زبان سے کسی طرح نہ کہے۔

 اہم مسئلہ: دورانِ عدت نکاح حرام ہے اور جو اسے حلال سمجھے وہ کافر ہے۔(فتاوی رضویہ، ۱۱ / ۲۶۶)