وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِؕ-وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰىؕ-وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْؕ- اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۳۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں یا وہ زیاد ہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اے مَردو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بُھلا نہ دو بیشک اللہ  تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیدو اور تم ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے ہو تو جتنا تم نے مقرر کیا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ مہر معاف کر دیں یا وہ (شوہر) زیاد ہ دیدے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اے مردو! تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری کے زیادہ نزدیک ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کرنا نہ بھولو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

{وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ: اور اگر تم عورتوں کو انہیں چھونے سے پہلے طلاق دیدو۔}اس آیت میں 6 چیزیں بیان کی گئی ہیں : 

(1)…اگر مہر مقرر ہواور عورت کے قریب جائے بغیر اسے طلاق دیدی ہو تو مقرر کردہ مہر کا نصف یعنی آدھا دینا پڑے گا، مثلاً دس ہزار مہر تھا تو پانچ ہزار دینا ہوگا۔

(2)…اگر عورت اس آدھے میں سے بھی کچھ معاف کردے تو جائز ہے۔

(3)…شوہر اپنی خوشی سے آدھے سے زیادہ دیدے تو بھی جائز ہے۔

(4)…شوہر کا اپنی خوشی سے آدھے سے زیادہ دینا تقویٰ و پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے کہ بیوی کو طلاق دینے کے باوجود کوئی زیادتی کرنے کی بجائے احسان سے پیش آرہا ہے۔

(5)…اللہ تعالٰی کا حکم ہے کہ اگرچہ میاں بیوی میں جدائی ہو رہی ہو تب بھی آپس میں احسان کرنا نہ بھولو یعنی طلاق کے بعد آپس میں کینہ و عداوت نہ ہو، اسلامی اور قرابت کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے۔ اس میں حسنِ سلوک و مَکارم اخلاق کی ترغیب ہے۔

(6)… آیت کے آخر میں یہ بھی فرمادیا کہ اللہ  تعالٰی تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی اس تصور و اعتقاد کو ہر وقت ذہن نشین رکھو تاکہ تم ظلم و زیادتی سے بچو اور فضل و احسان کی طرف مائل رہو۔ سبحاناللہ کتنی پیاری تعلیم ہے۔طلاق کامعاملہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ عموماً دونوں فریق جذبہ انتقام میں اندھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو جان سے مار دینے کے خواہشمند ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی یہاں پر بھی آپس میں حسنِ سلوک کا حکم فرمارہا ہے اور اس میں بھی خصوصاً مرد کو زیادہ تاکید ہے کیونکہ زیادہ ایذاء عام طور پر مرداور اس کے خاندان کی طرف سے ہوتی ہے۔