مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۴۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: ہے کوئی جو اللہ  کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: ہے کوئی جو اللہ کواچھا قرض دے تو اللہ اس کے لئے اس قرض کو بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

{مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا: ہے کوئی جو اللہ  کواچھا قرض دے۔} راہِ خدا میں اِخلاص کے ساتھ خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا ،یہ اللہ  تعالٰی کا کمال درجے کا لطف و کرم ہے کیونکہ بندہ اُس کا بنایا ہوا اور بندے کا مال اُس کا عطا فرمایا ہوا، حقیقی مالک وہ جبکہ بندہ اُس کی عطاسے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ بات دل میں بٹھانا مقصود ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کا مال ضائع نہیں ہوتا اوروہ اس کی واپسی کا مستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ اس خرچ کرنے کا بدلہ یقیناً پائے گا اوروہ بھی معمولی نہیں بلکہ کئی گنا بڑھا کر پائے گا ۔ سات سو گنا بھی ہوسکتا ہے اور اس سے لاکھوں گنا زائد بھی جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت 261میں ہے۔صدقہ سے دنیا میں بھی مال میں برکت ہوتی ہے اور آخرت میں بھی اجر وثواب ملتا ہے۔ دنیا کے اگر لاکھوں امیر لوگوں کاسروے کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات بکثرت کرتی ہے اور لاکھوں غریبوں کو دیکھلیں کہ ان کی اکثریت صدقہ و خیرات سے دور بھاگتی ہے۔

{وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ: اور اللہ  تنگی دیتا ہے اور وسعت دیتا ہے۔}  آیت کے اس حصے میں راہِ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ، چونکہ وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے تو اس شبہے کا ازالہ فرما دیا کہ اللہ  تعالٰی جس کے لیے چاہے روزی تنگ کردے اورجس کے لیے چاہےوسیع فرمادے، تنگی و فراخی تواس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کا وعدہ کرتاہے تو راہِ خدا میں خرچ کرنے سے مت ڈرو ، جس کی راہ میں خرچ کررہے ہو وہ کریم ہے اور اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور جود و بخشش کے خزانے لٹانا اس کریم کی شان ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبیٔ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’رحمٰن کا دستِ قدرت بھرا ہوا ہے، بے حد و حساب رحمتیں اور نعمتیں یوں برسانے والا ہے کہ دن رات (کے عطا فرمانے)نے اس میں کچھ کم نہ کیا اور دیکھو تو کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے اب تک اللہ تعالٰی نے کتنا خرچ کردیا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے دستِ قدرت میں جو خزانے ہیں اس میں کچھ کمی نہیں آئی۔  (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المائدۃ، ۵ / ۳۴، الحدیث: ۳۰۵۶)