وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًاؕ-قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِؕ-قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۴۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا :بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے ۔وہ کہنے لگے: اسے ہمارے او پر کہاں سے بادشاہی حاصل ہوگئی حالانکہ ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی ۔اس نبی نے فرمایا: اسے اللہ نے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی ہے اور اللہ جس کو چاہے اپنا ملک دے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔

{وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ: اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا ۔} بنی اسرائیل نے چونکہ بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست دی تھی چنانچہ حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک عصا ملا اور بتایا گیا کہ جو شخص تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا اُس کا قد اِس عصا کے برابر ہو گا۔ چنانچہ لوگوں کی پیمائش کرنے پر طالوت کا قداس عصا کے برابر نکلا تو حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میں تمہیں حکمِ الہٰی سے بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کرتا ہوں اور بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ  تعالٰی نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔   (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۷، ۱ / ۳۰۳)

بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ نبوت تو لاوی بن یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں چلی آتی ہے اور سلطنت یہود بن یعقوب کی اولاد میں جبکہ طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے نہیں ہے ،نیز یہ غریب آدمی ہے ، کوئی مال و دولت اس کے پاس ہے نہیں تو یہ بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اس سے زیادہ تو بادشاہت کے حقدار ہم ہیں۔ اِس معاملے میں یہ بنی اسرائیل کی پہلی نافرمانی تھی کہ اللہ  تعالٰی کے حکم کے مقابلہ میں اپنا قیاس کیااور بلاوجہ کی بحث کی ۔انہیں بتایا گیا کہ سلطنت کوئی وراثت نہیں کہ کسی نسل اور خاندان کے ساتھ خاص ہو، اِس کا دارومدار صرف فضل الہٰی پر ہے ۔طالوت کو تم پر اللہ  تعالٰی نے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ نیز وہ علم و قوت میں تم سے بڑھ کر ہےاورچونکہ علم اور قوت سلطنت کے لیے بڑے معاون ہوتے ہیں اور طالوت اس زمانہ میں تمام بنی اسرائیل سے زیادہ علم رکھتا تھا اور سب سے جسیم اور توانا تھا اس لئے وہی بادشاہت کا مستحق ہے اور اللہ  تعالٰی جسے چاہے اپنا ملک دے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۲۴۷، ۱ / ۱۸۷)

طالوت کو بادشاہ بنانے کے واقعے سے معلوم ہونے والے مسائل:

 اس واقعہ سے بہت سی چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔

(1)…حکمِ الہٰی کے مقابلے میں اپنے اندازے، تخمینے قائم کرنا ناجائز ہے۔

(2)…علم مال سے افضل ہے۔

(3)…حکمران ہونے کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ علم و قوت اور قابلیت و صلاحیت ہے۔

(4)…بغیر استحقاق کے نسل در نسل بادشاہت غلط ہے، ہر آدمی کو اس کی صلاحیت پر پرکھا جائے۔یہاں جسے بادشاہ مقرر کیا گیا اسے قد کے طول یعنی لمبائی کی وجہ سے طالوت کا نام دیا گیا۔ یہ بنیامین بن حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے تھے۔