فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ﳜ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُؕ-وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍۙ-لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۲۵۱)

ترجمۂ  کنزالایمان:  تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہاسکھایا اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: تو انہوں نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو بھگا دیا اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیااور اللہ نے اسے سلطنت اورحکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہاسکھادیا اور اگر اللہ  لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے۔

{فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ: تو انہوں نے اللہ کے حکم سے دشمنوں کو بھگا دیا۔} جب دونوں لشکر میدانِ جنگ میں آمنے سامنے ہوئے تو جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابلہ کرنے والا طلب کیا۔ وہ اس کی قوت وجسامت دیکھ کر گھبرا گئے کیونکہ وہ بڑا جابر، قوی، شہ زور، عظیم الجُثہ اورقد آور تھا۔ طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے میں اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک اسے دیدوں گا مگر کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ طالوت نے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا کہ بارگاہِ الہٰی میں دعا کریں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جالوت کو قتل کریں گے ۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد ’’ایشا‘‘ طالوت کے لشکر میں تھے اور ان کے ساتھ ان کے تمام فرزند بھی تھے، حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان میں سب سے چھوٹے تھے اور بیمار تھے، رنگ زرد تھا اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب طالوت نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیدوں گا اور آدھا ملک آپ کوپیش کردوں گا تو آپ نے اس پیشکش کو قبول فرما لیا اور جالوت کی طرف روانہ ہوگئے۔ لڑائی کی صفیں بندھ گئیں اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے دست مبارک میں گوپھن یعنی پتھر پھینکنے والی رسی لے کر جالوت کے سامنے آگئے۔ جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرنا چاہا، آپ نے اپنی اُس رسی میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا۔ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے لاکر طالوت کے سامنے ڈال دیا ،تمام بنی اسرائیل بڑے خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حسب ِوعدہ نصف ملک دیا اور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا۔ ایک مدت کے بعد طالوت نے وفات پائی اور تمام ملک پر حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سلطنت ہوئی۔            (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۱، ۱ / ۳۰۸-۳۰۹)

 اللہ تعالیٰٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکومت اور حکمت یعنی نبوت دونوں عطا فرمادئیے اور آپ کو جو چاہاسکھایا ، اس میں زرہ بنانا اور جانوروں کا کلام سمجھنا دونوں شامل ہیں جیسا کہ سورۂ انبیاء آیت79، 80میں ہے۔

طالوت ، جالوت اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعہ سے حاصل ہونے والادرس:

طالوت و جالوت اور حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پورے واقعہ میں بہت سے درس ہیں :۔

 (1)…ثابت قدمی کم لوگوں ہی کو نصیب ہوتی ہے کیونکہ یہ بہت عظیم خوبی ہے۔

(2)… جہاد سے پہلے آزمائش کرلینا بہتر ہوتا ہے۔ عین وقت پر کوئی بزدلی دکھائے تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ حالت ِ امن میں فوج کی تربیت اور محنت و مشقت اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔

(3)…یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بڑے امتحان سے پہلے چھوٹے امتحان میں سے گزر لینا چاہیے اس سے دل میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ گرمیوں میں روزے رکھنا تکلیف دہ ہے تو ہلکے گرم موسم میں روزے رکھتے رہنا چاہیے تاکہ مشق ہوجائے۔ بڑی چیزوں پر صبر کرنا مشکل ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر صبر کا خود کو عادی بنائیں ، سخاوت کرنے سے دل رُکتا ہو تو روزانہ تھوڑا تھوڑا مال صدقہ کرتے رہیں۔ الغرض یہ قرآن کا ایک اصول ہے جو علمِ نفسیات میں بھر پور طریقے سے استعمال ہوتا ہے، اس کے ذریعے اپنے سینکڑوں معمولات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

(4)… مومن کو اسباب مہیا کرنے چاہئیں لیکن بھروسہ اپنے رب تعالیٰٰ پرہی ہونا چاہیے۔

{لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ: تو ضرور زمین تباہ ہوجائے ۔}یہاں جہاد کی حکمت کا بیان ہے کہ جہاد میں ہزار وں مصلحتیں ہیں ،  اگر گھاس نہ کاٹی جائے تو کھیت برباد ہو جائے، اگر آپریشن کے ذریعے فاسد مواد نہ نکالا جائے تو بدن بگڑ جائے، اگر چور ڈاکو نہ پکڑے جائیں تو امن بر باد ہو جائے ۔ ایسے ہی جہاد کے ذریعے مغروروں ، باغیوں اور سرکشوں کو دبایا نہ جائے تو اچھے لوگ جی نہ سکیں۔ کائنات میں اللہ تعالٰی کی تکوینی حکمتیں جاری و ساری ہیں ، ان کو سمجھنا ہر ایک کے بس میں نہیں۔