لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۵۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: کچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی مُحکَم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللہ  سنتا جانتا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: دین میں کوئی زبردستی نہیں ،بیشک ہدایت کی راہ گمراہی سے خوب جدا ہوگئی ہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی کھلنا نہیں اوراللہ سننے والا، جاننے والاہے۔

{لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شیطان کا انکار کرے اور اللہ   تعالیٰٰ پر ایمان لائے تو اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا اور یہ ٹوٹنے والا نہیں اِلاّیہ کہ بندہ خود ہی اسے چھوڑ دے ۔

آیت ’’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:

(1)… صفاتِ اِلہِیَّہ کے بعد ’’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘‘ فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ اب عقلمند آدمی کے لیے قبولِ حق میں تاخیر کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔  کسی کافر کو جبراً مسلمان بنانا جائز نہیں مگر مسلمان کو جبراً مسلمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دینِ اسلام کی توہین اور دوسروں کیلئے بغاوت کا راستہ ہے جسے بند کرنا ضروری ہے، لہٰذا کسی مسلمان کو مُرتَد ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی یا تو وہ اسلام لائے یا اسے قتل کیا جائے گا۔ اللہ  تعالٰی نے بنی اسرائیل کے مرتدین سے فرمایا تھا

’’فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ‘‘(بقرہ: ۵۴)

 ترجمۂ  کنزالعرفان: اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کر دو۔

(2)…اس آیت میں  ’’کفر ‘‘کا لفظ لغوی معنی میں ہے یعنی انکار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے لئے ضروری ہے  کافرپہلے اپنے کفر سے توبہ کرے اور بیزار ہو، اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔ اگر کوئی مرتد ہوجائے تو وہ بھی صرف کلمہ پڑھ لینے یا مسلمانوں والا کوئی دوسرا کام کرلینے سے مسلمان نہ ہوگا جب تک اپنے اس اِرتِداد سے توبہ نہ کرے۔

(3)…اس آیت میں طاغوت سے بچنے کا جو فرمایا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام پر مضبوطی سے وہ ہی قائم رہ سکتا ہے جو بے دینوں کی صحبت، ان کی الفت ،ان کی کتابیں دیکھنے ،ان کے وعظ سننے سے دو رہے اور جو اپنے ایمان کی رسی پر خود ہی چھریاں چلائے گا اس کی رسی کا کٹنے سے بچنا مشکل ہے۔