اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۲۵۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ،یہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

{اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اللہ مسلمانوں کا والی ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مومنوں کا دوست ہے کہ انہیں کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے، انہیں انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صالحین کے طریقے کی طرف لاتا ہے جبکہ کافروں کا دوست شیطان ہے جو انہیں فطرت ِ صحیحہ کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ حق کا راستہ ایک ہے اور باطل کے بہت سارے راستے ہیں ، اس لئے یہاں ’’نور‘‘ کو واحد اور ’’ ظلمات‘‘ کو جمع ذکر کیا گیا۔

نور کی طرف جانے کاسب سے بڑا ذریعہ:

 یاد رہے کہ مومنوں کے نور کی طرف جانے کاسب سے بڑا ذریعہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں چنانچہ سورۂ ابراہیم آیت نمبر 1میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی ’’ لِتُخْرِ جَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ‘‘ تاکہ آپ لوگوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں۔