اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ-لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ- وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُﳚ -فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠(۲۶۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے اور اسے بڑھاپا آیا اور اس کے ناتواں بچے ہیں تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجور اور انگوروں کاایک باغ ہو جس کے نیچے ندیاں بہتی ہوں ، اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں اور اسے بڑھاپا آجائے اور حال یہ ہو کہ اس کے کمزور وناتوان بچے ہوں پھر اس پر ایک بگولا آئے جس میں آگ ہو توسارا باغ جل جائے۔ اللہ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔

{اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ: کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا۔} ارشاد فرمایاکہ کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرے گا ،مراد یہ ہے کہ کوئی یہ پسند نہ کرے گا کیونکہ یہ بات کسی عاقل کیلئے قابلِ قبول نہیں کہ اس کا باغ ہو جس میں قسم قسم کے درخت ہوں ،پھلوں سے لدا ہوا ہو، وہ باغ فرحت انگیز و دلکُشا بھی ہواور نافع اور عمدہ بھی، آدمی اسے اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھتا ہو جو انسان کی حاجت کا وقت ہوتا ہے اور آدمی کمانے کے قابل نہیں رہتا اور اُس بڑھاپے میں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں جو کمانے کے قابل نہ ہوں اوروہ پرورش کے محتاج ہوں۔ الغرض وہ وقت انتہائی شدید محتاجی کا ہوتا ہے لیکن اس بڑھاپے اور حاجت کے وقت شدید قسم کی آندھی چلے جس میں بگولے ہوں اور ان بگولوں میں آگ ہواور وہ آگ آدمی کے مستقبل کے اِس واحد سہارے یعنی باغ کو جلا کر راکھ کر دے تو اس وقت آدمی کے رنج و غم اور حسرت ویاس کاکیا عالَم ہوگا؟ اللہ اَکْبَر، یہی حال اس شخص کا ہے جس نے اعمالِ حسنہ تو کیے ہوں مگر رضائے الہٰی کے لیے نہیں بلکہ ریا کاری کی غرض سے کئے اور وہ اس گمان میں ہو کہ میرے پاس نیکیوں کا ذخیرہ ہے مگر جب شدتِ حاجت کا وقت یعنی قیامت کا دن آئے تو اللہ تعالٰی ان اعمال کو نامقبول کردے اور اس وقت اس کو کتنا رنج اور کتنی حسرت ہوگی ۔ اللہ تعالٰی یہ آیات اس لئے بیان فرماتا ہے تاکہ اے لوگو! تم غور و فکر کرو اور سمجھو کہ دنیا فانی ہے اورآخرت ضرور آنی ہے تو اُس آخرت کیلئے عمل کرو اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو۔ اللہ اَکْبَر، کس قدر دل دہلا دینے والی مثال ہے۔ اے کاش کہ ہم سمجھ جائیں اور اپنے تمام اعمال، نماز، ذکرو درود، تلاوت و نعت خوانی، حج و عمرہ، زکوٰۃو صدقات وغیرہ کو ریاکاری کی تباہ کاری سے بچا لیں اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا شروع کردیں۔(ریاکاری اور دیگر باطنی امراض کے علاج کا ذہن پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیں۔])