أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتِلۡكَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ‌ۚ وَمَا يَعۡقِلُهَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم لوگوں کے لئے ان مثالوں کو بیان فرماتے ہیں ‘ اور ان مثالوں کو صرف علماء سمجھتے ہیں

قرآن مجید میں بیان کردہ مثالوں کی فہم صرف علماء کو حاصل ہے۔

فرمایا : اور ہم لوگوں کے لئے ان مثالوں کو بیان فرماتے ہیں۔ (العنکبوت : ٤٣ )

مشرکین نے یہ اعتراض کیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے تو مچھو ‘ مجھی اور مکڑی ایسی چھوٹی حقیر اور بےوقعت چیزوں کی مثالیں دینا اسے کب زیب دیتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مثال میں مثال دینے والے کی نہیں بلکہ جس چیز کی مثال دی جائے اس کی رعایت کی جاتی ہے اگر کسی عظیم چیز کی مثال دی جائے تو عظیم چیز کا ذکر کیا جائے گا اور اگر حقیر چیز کی مثال دی جائے تو حقیر چیز کا ذکر کیا جائے گا۔ مثلا کوئی شخص کسی کی غیبت کر رہا ہو تو کہا جائے گا تم مردار کا گوشت کھا رہے ہو اس قول میں غائب شخص کو مردے کے ساتھ تشبیہ دی ہے کیونکہ جس طرح مردہ کسی بات کو سنتا ہے نہ سمجھتا ہے نہ اس بات کا جواب دے سکتا ہے اس طرح تم جس غیر موجود اور غائب شخص کا عیب بیان کر رہے ہو وہ نہ اس وقت اس بات کو سن رہا ہے نہ سمجھ رہا ہے نہ اس بات کا جواب دے سکتا ہے وہ ایک مردے کی طرح ہے اور تم اس کا گوش کھا رہے ہو ‘ اور اس کو پتا نہیں کہ تم کیا کررہے ہو اور وہ اپنی مدافعت کرنے پر قادر نہیں ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے غیبت کو مردار کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا اور فرمایا :۔

اور تم میں کوئی کسی کی غیبت نہ کرے ‘ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے ؟ سو تم کو اس سے گھن آئے گی ! (الجرات : ١٢)

اس کے بعد فرمایا : اور ان مثالوں کو صرف علماء سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی عبادت کرنے کو اور اس کو اپنا مددگار بنانے کو تار عنکبوت کی طرح کمزور اور ناپائید اور قرار دیا ہے اور اہلعلم ہی جان سکتے ہیں کہ یہ جہان خود سے نہیں بن گیا اس کا کوئی خالق ضرور ہے اور تمام جہانوں میں صرف ایک نظام کا جاری ہونا یہ بتا تا ہے کہ اس کا ناظم واحد ہے اور وہ خالق اور ناظم واجب اور قدیم ہے اس جہان کو بنانے میں کوئی اس کا شریک ہے نہ اس کو چالنے میں کوئی اس کا شریک ہے ‘ وہ سب کو پیدا کرتا ہے اور وہی سب کی مدد کرتا ہے ‘ اس کے سوا کسی اور کو مددگار سمجھنا اور ماننا اور اس کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا ولی اور کار ساز بنانا تار عنکبوت سے زیادہ کمزور اور باطل ہے ‘ رہے اولیاء اللہ تو وہ من دون اللہ نہیں بلکہ ماذون من اللہ ہیں ‘ ان کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے مرادیں مانگنا شرعاً جائز ہے ہرچند کہ اصل یہی ہے کہ اپنی حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے لیکن اگر اولیاء اللہ کو بھی غیر مستقل اور ماذون سمجھ کر پکارا جائے تو وہ خلاف اصل اور خلاف اولی سہی لیکن شرک اور ناجائز نہیں ہے ‘ اس کی مدلل اور با حوالہ بحث الفاتحہ : ٥ اور یونس : ٢٢ میں تفصیل سے گزر چکی ہے وہاں مطالعہ فرمائیں۔

علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر الزمنحشری الخوار زمی المتوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء ہی قرآن مجید میں دی گئی مثالوں کی صحت ‘ حسن اور فائدہ کو سمجھتے ہیں کیونکہ مثالوں اور تشبیہات کے ذریعہ ان معانی کو دریافت کیا جاتا ہے جو پردوں میں مستور ہوتے ہیں جیسا کہ تارعنکبوت کے ضعف کی مثال سے موحد اور مثک کے حال کے فرق کو واضح فرمایا ہے۔ اور عالم وہ شخص ہے جو اپنی عقل سے اللہ کو جانے اس کے احکام کی اطاعت کرے اور اس کی ناراضگی سے اجتناب کرے۔ ( الکشاف ج ٣ ص ٤٥٩‘ اور داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

عالم کی یہ تعریف صحیح ہے لیکن اس کو بہ طور حدیث بیان کرنا صحیح نہیں ہے ‘ اس حدیث کی سند موضوع ہے۔

عالم دین کی تعریف اور اس کی شرائط 

عالم دین وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا علم ہو اور اس کو علم ہو کہ کن چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی تنز یہ واجب ہے ‘ اسی طرح اس کو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مراتب اور ان کی صفات کا علم ہو اور اس کو علم ہو کہ مکلف پر کیا چیزیں فرض ہیں اور کیا چیزیں واجب ہیں ‘ اسی طرح اس کو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مراتب اور ان کی صفا کا علم ہو اور اور اس کو علم ہو کہ مکلف پر کیا چیزیں فرض ہیں اور کیا چیزیں واجب ہیں اور اس کو سنن اور مستحبات اور مباحات کا علم ہو ‘ اور اس کو معلوم ہو کیا چیزیں حرام ہیں اور کیا مکروہ تحریمی ہیں اور کیا مکروہ تنز یہی ہیں اور کیا خلاف اولیٰ ہیں ‘ اور وہ علم کلام اور عقائد ‘ علم تفسیر ‘ علم حدیث اور علم فقہ و اصول فقہ پر عبور رکھتا ہو ‘ علم صرف ‘ علم نحو ‘ علم معانی اور علم بیان میں ماہر ہو اور بہ قدر ضرورت مفردات لغت کا حافظ ہو اور اس میں اتنی صلاحیت ہو کہ اس سے دین کے جس مسئلہ کا بھی سوال کیا جائے وہ اس کا جواب دے سکے خواہ وہ جواب اس کو متحضر ہو یا وہ کتب متعلقہ سے ازخود اس کو تلاش کرسکے۔ اور جو شخص ان صفات کا حامل نہیں وہ عالم دین کہلانے کا مستحق نہیں ہے کیونکہ اگر اس کو صرف اور تحو پر عبور نہیں ہے تو وہ احادیث کی عربی عبارت صحیح نہیں پڑھ سکتا اور گار وہ بہ قدر ضرورت مفردات لغت کا حافظہ نہیں ہے اور علم معانی اور بیان پر دسترس نہیں رکھتا تو وہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث کا صحیح ترجمہ نہیں کرسکتا اور اگر اس کو علم کلام اور علم تفسیر اور حدیث پر عبور نہیں ہے تو وہ عقائد کو صحیح بیان کرسکتا ہے اور نہ صحیح عقائد پر دلائل قائم کرسکتا ہے ‘ اور نہ باطل فرقوں کا رد کرسکتا ہے اور اگر اس کو فقہ پر عبور نہیں ہے تو وہ حلال اور حرام کے احکام کو جان سکتا ہے نہ بیان کرسکتا ہے ‘ سو ایسا شخص عالم دین کس طرح ہوگا ‘ اور اس پر عالم دین کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے۔ ہرچند کہ عالم دین کے مصداق کے لئے ان امور کو جان لینا کافی ہے لیکن کامل عالم کے لئے ضروری ہے کہ وہ علم کے تقاضوں پر عامل ہو ورنہ وہ اس آیت کا مصداق ہوگا :

جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو (الجمعہ : ٥)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

عالم دین کے لئے علم شرعی ضروری ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا علم اور نقائص سے اس کی تنز یہ کا علم اور مکلف پر اس کے دین میں جو اللہ تعالیٰ کی عبادات اور معاملات میں اس کے احکام واجب ہیں ان کا علم ‘ اور ان کا مدارتفسیر ‘ حدیث اور فقہ کے علم پر ہے۔ (محصلہ فتح البار ج ١ ص ١٩٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

ملاعlی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ علم نافع کے بیان میں لکھتے ہیں : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات ‘ اس کے افعال اور اس کے فرشتوں کا علم ہے اور اس میں علم کلام اور اس کی کتابوں کا علم بھی داخل ہے اور علم تفسیر ‘ علم حدیث ‘ علم فقہ اور علم اصول فقہ بھی داخل ہے۔ (مرقاتج ١ ص ٢٦٩‘ مطبو عہ مکتبہ امداد یہ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

نیز ملا علی قاری لکھتے ہیں :

علم شرعی کتاب اور سنت سے عام ہے ‘ اور علم ایک نور ہے جو مئومن کے قلب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال ‘ افعال اور احوال سے حاصل ہوتا ہے اور اسی علم سے مومن کو اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات ‘ اس کے افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے اگر یہ علم کسی بشر یا کتاب سے حاصل ہو تو یہ علم کسبی ہے اور بغیر واسط کے اصل ہو تو یہ علم لدنی ہے اور علم لدنی کی تین قسمیں ہیں ‘ وحی ‘ الہام اور فراست ‘ وحی انبیاء کے ساتھ خاص ہے ‘ الہام اولیاء اللہ کے ساتھ حاص ہے اور فراست وہ ہے جس کے ذریعے ظاہری صورتوں سے امور غیبیہ منکثف ہوجاتے ہیں۔ (محصلہ مرقات ج ١ ص ٢٦٤ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ متوفی ١٣٤٠ ھ اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ ہر مسلم مرد اور ہر مسلم عورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے ‘ اس علم سے کون سا علم مراد ہے ‘ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :

حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم کہ بوجہ کثرت طرق و تعدا مخارج حدیث حسن ہے اوس کا صریح مفاد ہر مسلمان مرد و عورت پر طلب علم کی فرضیت تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اوس علم پر جس کا تعلم فرض عین ہو اور فرض عین نہیں مگر اون علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو ان کا اعم و اثمل و اعلیٰ و اکمل واہم واجل علم اصول عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنی المذہب ہوتا ہے اور انکار و مخالفت سے کافر یا بدعتی والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں پھر علم مسائل نماز یعنی اوس کے فرائض و شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کرسکے پھر جب رمضان آئے تو مسائب صوم ‘ مالک نصاب نامی ہو تو مسائل زکوۃ۔ صاحب استطاعت ہو تو مسائل حج۔ نکاح کیا چاہے تو اوس کے متعلق ضروری مسئلے۔ تاجر ہو تو مسائل بیع و شرا۔ مزارع پر مسائل زراعت۔ موجر و مستاجر پر مسائل اجارہ و علیٰ ہذا القیاس ہر شخص پر اوس کی حاجت موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرض عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائل حلال و حرام کہ ہر فرد بشران کا محتاج ہے اور مسائل علم قلب یعنی فرائض قلبیہ مثل تواضع و اخلاص و توکل وغیر ہا اور اون کے طرق تحصیل اور محرمات با طنیہ تکبر ور یا و عجب وحسد وغیر ہا اور اون کے معالجات کہ ان کا تعلم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بےنماز فاسق و فاجر و مرتکب کبائر ہے یوں ہی بعینہ ریا سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ نسئل اللہ العفو و العافیۃ تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں و بس (الی ان قال) ہاں آیات واحادیث دیگر کہ فضیلت علماء تر غیب علم میں وارد وہاں ان کے سوا او علوم کثیرہ بھی مراد ہیں جن کا تعلم فرض کفایہ یا واجب یا مسنون یا مستحب اس کے آگے کوئی درجہ فضیلت و ترغیب اور جو ان سے خارج ہو ہرگز آیات و احادیث میں مراد نہیں ہوسکتا اور ان کا ضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اوس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃ جیسے فقہ و حدیث و تصوف بےتخلیط و تفسیر قرآن بےآفراط و تفریظ ‘ خواہ وساطۃ مثلاً نحو و صرف و معانی وبیان کہ فی حد ذا تہا امر دینی نہیں مگر فہم قرآن و حدیث کے لئے وسیلہ ہیں ‘ اور فقیر غفر اللہ تعالیٰ اس کے لئے عمدہ معیار عرض کرتا ہے مراد متکلم جیسے خود اس کے کلام سے ظاہر ہوتی ہے دوسرے کے بیان سے نہیں ہوسکتی۔ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنہوں نے علم و علماء کے فضائل عالیہ و جلائل عالیہ ارشاد فرمائے انہی کی حدیث میں وارد ہے کہ علماء وارث انبیاء کے ہیں انبیاء نے درم ودینا ترکہ میں نہ چھوڑے علم اپنا ورثہ چھوڑا ہے جس نے علم پایا اوس نے بڑا حصہ پایا اخرج ابو دائود والترمذی وابن ماجہ وابن حبان والبیھقی عن ابی درداء (رض) قال سمعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقول فذکر الحدیث فی فضل العلم وفی اخرہ ان العماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثو ادینارا ولا درھا وانما ورثو العلم فمن اخذ بحفظ وافر بس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تو بیشک محمود اور فضائل جلیلہ موعودہ کا مصداق اور اس کے جاننے والے کو لقب عالم و مولوی کا استحقاق۔(فتاوی رضویہ ج ١٠ حصہ ١ ص ١٦‘ مبطوعہ دار العلوم امجدیہ ‘ مکتبہ رضویہ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

اعلیٰ حضرت کی موخرالذکر عبارت میں یہ تصریح ہے کہ عالم اور مولوی کے لقب کا مستحق وہ شخص ہوگا جس کو تفسیر ‘ حدیث و فقہ پر عبور ہو اور جن علوم پر تفسیر و حدیث وفقہ کا علم موقوف ہے مثلاً تحو صرف و معانی وبیان ‘ ان کے علوم پر بھی اس کو عبور ہو۔

اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ اس زمانہ میں بہت لوگ تفسیر و حدیث بےخواندہ و بےاجازت اساتذہ بر سر باز ارومسجد وغیرہ میں بہ طور وعظ و نصائح بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی و مطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردو کتابیں دیکھ کے کہتے ہیں یہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کے لئے شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

اعلیٰ حضرت اس کے جواب میں لکھتے ہیں :

حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جس نے بغیر علم کے قرآن میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ ( ترمذی) (فتاویٰ رضویہ ج ١٠ حصہ اول ص ١٨٨‘ مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ ‘ مکتبہ رضویہ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

نیز اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :۔

سند حاصل کرنا تو کچھ ضروری نہیں ‘ ہاں باقاعدہ تعلیم پانا ضروری ہے ‘ مدرسہ میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر اور جس نے بےقاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر نیم ملا خطرہ ایمان ہوگا الخ۔

نیز فرماتے ہیں :۔

اگر عالم ہے تو اوس کا یہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کی اجازت نہیں وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (فتاوی رضوی ج ١٠ حصہ دوم ص ٣٠٨‘ دارالعلوم امجد یہ ‘ مکتبہ رضویہ کراچی ‘ ١٤١٢ ھ)

عالم دین کے فرائض اور نیکی کا حکم دینے کی تفصیل اور تحقیق :۔

عام آدمی کے لئے ضروری ہے کہ اس کو ان احکام کا علم ہو جن کا وہ مکلف ہے اور عالم دین کے لئے ضروری ہے کہ اس کو عقائد صحیحہ اور ان کے دلائل ‘ عقائد باطلہ اور ان کے رد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا علم ہو حتیٰ کہ اس سے عقائد اور احکام سے متعلق جس چیز کا بھی سوال کیا جائے وہ اس کا جواب دینے پر قادر ہو ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق عمل بھی کرتا ہو ورنہ دنیا میں اس کی تبلیغ میں اثر نہیں ہوگا اور آخرت میں وہ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ حدیث میں ہے : حضرت اسامہ (رض) سے کہا گیا کہ تم ولید کی شراب نوشی کی حضرت عثمان (رض) سے شکایت کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : تم یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے نہیں کہتا ! میں ان سے تنہائی میں کہتا ہوں اور لوگوں کے سامنے کہہ کر امیر کے خلاف شکایات کا دروازہ نہیں کھولتا اور میں اس حدیث کے سننے کے بعد کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ وہ سب سے نیک ہے خواہ وہ شخص میرا امیر ہو ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ‘ اس کی آنتیں تیزی سے نکل جائیں گی اور وہ اس طرح گردش کررہا ہوگا جس طرح گدھا چکی چکی کے گرد گردش کرتا ہے ‘ دوزخ والے اس کے گرد جمع ہو کر پوچھیں گے : اے فلاں شخص کیا تم ہم کو نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے۔ او ہم کو برائی سے نہیں روکتے تھے وہ کہے گا میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود نیکی نہیں کرتا تھا اور میں تم کو برے کاموں سے روکتا تھا اور خود برے کام کرتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٩٨۔ ٣٢٦٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٨٩‘ سنن ابی دائود رقم الحدیث : ٤٨٦٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٨٢)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث (٧٠٩٨) کی شرح میں لکھتے ہیں :۔

مہلب نے کہا ان لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ حضرت اسامہ (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) سے الولید بن عقبہ کے معاملہ میں بات کریں کیونکہ اس سے شراب کی بو آتی تھی اور وہ حضرت عثمان (رض) کا ماں شریک بھائی تھا اور حضرت عثمان نے اس کو کوفے کا گورنر بنایا ہوا تھا ‘ حضرت اسامہ نے کہا میں نے حضرت عثمان سے تنہائی میں بات کی ہے اور برسر عام بات نہیں کی ‘ میں نہیں چاہتا کہ ائمہ سے لوگوں کے سامنے بات کی جائے اور فتنہ پیدا ہوا اور اتحاد ملت کا شیرازہ بکھر جائے پھر ان کو یہ بتایا کہ وہ کسی سے مداہنت نہیں کرتے خواہ وہ سر براہ مملکت ہو۔ بلکہ تنہائی میں خیر خواہی سے اس کو نصحیت کرتے ہیں اور ان کے سامنے حدیث سنائی کہ ایک شخص لوگوں کو نصیحت کرتا تھا اور خود نیک کام نہیں کرتا تھا تو اس کو دوزخ میں ڈال دیا گیا تاکہ وہ حضرت عثمان سے برسر عام بات کرنے سے جو احتراز کررہے ہیں اس وجہ سے لوگ ان کے متعلق بدگمانی نہ کریں ‘ مہلب کا کلام ختم ہوا ‘ مہلب نے جو یہ کہا ہے کہ حضرت اسامہ نے حدیث اس لئے سنائی کہ لوگ ان کے سکوت کی وجہ سے ان کے متعلق بدگمانی نہ کریں یہ واضح نہیں ہے ‘ بلکہ اس حدیث کو سنانے سے حضرت اسامہ کا مقصد یہ تھا کہ جو شخص کسی علاقہ کا گورنر یا ولی ہو ‘ خواہ وہ چھوٹا علاقہ ہی ہو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دے اور ان کو برائی سے روکے اور میں اس امیر (ولید بن عقبہ) کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ یہ سب لوگوں سے نیک ہے۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوجائیں گی۔

قاضی عیاض نے کہا حضرت اسامہ کی مراد یہ تھی کہ وہ امام کے خلاف بر سرعام شکایت کرنے کا دروازہ نہیں کھولنا چاہتے کیونکہ ان کو اس کے برے نتائج کا خدشہ تھا ‘ بلکہ وہ نرمی اور خیر خواہی سے تنہائی میں نصیحت کرتے ہیں اور یہ طریقہ اثر اور قبول کے زیادہ قریب ہے اور کسی کی پردہ دری اور اس کی غیرت کو جوش میں لانے سے زیادہ بعید ہے ‘ اور انہوں نے جو یہ کہا کہ میں کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کہنا کہ وہ سب سے نیک ہے خواہ وہ میرا امیر اور حاکم ہو ‘ یہ حدیث حق بات میں امراء کی مداہنت کرنے کی مذمت پر حجت ہے اور جو شخص خاشامد کرتا ہے اور اپنے باطن کے خلاف اظہا ار کرنا ہے اس کے معیوب اور ممنوع ہونے پر بھی دلیل ہے یہ چیز مذموم ہے ‘ اور پہلی صورت یعنی لوگوں کے سامنے حاکم کو ملامت نہ کرنا اور تنہائی میں اس کو نصیحت کرنا یہ مدار اۃ محمودہ ہے کیونکہ اس میں دین کا نقصان نہیں ہے اور نرمی سے کلام کرنا ہے اور دین اور دنیا کی بہتری کے لئے اسباب دنیا کو حاصل کرنے کا جائز اور مستحسن طریقہ ہے ‘ اور مداہنت کا معنیٰ ہے دنیا کے اسباب اور آسائش کو اصل کرنے کے لئے جھوٹ بول کر حق کو چھپایا جائے اور برے کام کو اچھا کہا جائے اور ناجائز کام کو جائز کہا جائے۔ اور مدارات کا معنی ہے دینی مفاد کی وجہ سے کسی فاسق وفا جر کے ساتھ نرمی سے کلام کیا جائے اور اس کی غلط روش کی برسر عام مذمت نہ کی جائے۔ (اکمال المعلم بفو ائد مسلم ج ٨ ص ٥٣٨‘ دارالوفاء ‘ ١٤١٩ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : طبری نے کہا امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینے) میں اختلاف ہے ‘ ایک جماعت نے کہا یہ مطلقاً واجب ہے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ظالم بادشاہ کے خلاف کلمئہ حق کہنا سب سے افضل جہاد ہیص سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٣٤٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٧٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١١) اور آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے وہ اس کو بدل ڈالے (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٩) اور بعض علماء نے کہا برائی کا رد کرنا واجب ہے بہ شرطی کہ اس سے کسی مصیبت اور آزمائش ‘ مثلا قتل کیے جانے کا خطرہ نہ ہو ‘ اور بعض علمائئے نے کہا اس پر صرف لازم ہے کہ وہ دل سے برائی کو برا جانے کیونکہ حدیث میں ہے : حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد تم پر کچھ حاکم مسلط کیے جائیں گے جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ان کا رد کیا وہ سلامت رہا لیکن جو ان سے راضی رہا اور جس نے ان کی اتباع کی (وہ عذاب کا مستحق ہوگا) مسلمانوں نے پوچھا کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٥٤‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٦٠‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٦٥) اور صحیح یہ ہے کہ حکام کو نیکی کو حکم اسی وقت دیا جائے جب عالم دین کو کسی آزمائش میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل نہ کرے ‘ مسلمانوں نے پوچھا وہ اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا فرمایا وہ ایسی آزمائش کے درپے ہو جس کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٥٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٤٠٥‘ شرح السنتہ رقم الحدیث : ٣٦٠١)

اور طبری کے غیر نے کہا جو شخص نیکی کا حکم دینے پر قادر ہو اور اس کو اپنے اوپر ضرر کا خطرہ نہ ہو اس اس پر نیکی کا حکم دینا واجب ہے خواہ وہ حکم دینے والا (عالم دینض معصیت میں مبتلا ہو کیونکہ اس کو نیکی کا حکم دینے پر اجر ملے گا خصوصاً جب کہ وہ اطاعت شعار ہو ‘ رہا اس کا خاص گناہ تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے اور ہوسکتا ہے کہ اس پر گرفت فرمائے ‘ اور جس شخص نے یہ کہا کہ جو شخص خود گنا ہوں میں ملوث ہو وہ نیکی کا حکم نہ دے تو اگر اس کی مراد یہ ہے کہ اس کے لئے نیکی کا حکم نہ دینا اولیٰ ہے تو یہ ٹھیک ہے ورنہ اگر اس کے علاوہ اور کوئی عالم دین نہیں ہے تو پھر امر بالمعروف کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

پھر طبری نے کہا کہ حضرت اسامہ کی اس حدیث میں ہے کہ جن کو نیکی کا حکم دیا گیا تھا وہ بھی دوزخ میں تھے اس کی کیا وہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا تھا اور ان کے امیر کو بھی اسی لئے عذاب دیا گیا کہ اس نے جس نیکی کا حکم دیا تھا اس پر وہ خود عمل نہیں کرتا تھا ‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حکام کی تعظیم کرنی چاہیے اور ان کا ادب کرنا چاہیے اور لوگوں کو ان سے جو شکایات ہوں وہ ان تک حکمت اور خیر خواہی سے پہچانی چاہئیں تاکہ وہ ان شکایات کا ازالہ کریں۔فتح الباری

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی نے بھی حدیث ۳۲۶۷ میں تقریبا یہی تقریر کی ہے علامہ ابن حجر نے حدیث ۳۲۶۷ میں اس پر کلام نہیں کیا اور حدیث ۷۰۹۸ میں اس کی شرح کی ہے (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ٢٢٨‘ مطبوعہ دالرالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 43