اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۷۱)

ترجمۂ  کنزالایمان: اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اگر تم اعلانیہ خیرات دو گے تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگرتم چھپا کر فقیروں کو دو تویہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اللہ تم سے تمہاری کچھ برائیاں مٹا دے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

{اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ: اگر تم اعلانیہ خیرات دو گے۔} صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص کے ساتھ اللہ  تعالٰی کے لئے دیا جائے اور ریاسے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں۔ لیکن صدقہ فرض کو ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کو چھپا کر اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لیے ظاہر کرکے دے تو یہ اِظہار بھی افضل ہے جیسے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمجمعِ عام میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سب کے سامنے صدقات پیش کرتے۔سیدُنا صدیقِ اکبر، سیدُنا عمر فاروق اور سیدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے اعلانیہ صدقات میں یہی حکمت تھی۔ صدقات کی مزید فضیلت یہ بیان فرمائی کہ اس سے گناہِ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں۔ احادیث میں صدقہ کے بے پناہ فضائل مذکور ہیں ، جیسے صدقہ غضبِ الہٰی کو بجھاتا اور بری موت دور کرتا ہے۔ گناہ مٹاتا ہے۔ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے اوربری قضا ٹال دیتا ہے۔ صدقہ دینے سے روزی اور مدد ملتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے۔ آفتیں دور ہوتی ہیں، نیز بلا صدقے سے آگے قدم نہیں بڑھاتی۔( فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۱۳۷-۱۴۰، ملخصاً)

اکثر و بیشتر اعمال میں یہی قاعدہ ہے کہ وہ خفیہ اور اعلانیہ دونوں طرح جائز ہیں لیکن ریاکاری کیلئے اعلانیہ کرنا حرام ہے اور دوسروں کی ترغیب کیلئے کرنا ثواب ہے۔ مشائخ و علماء بہت سے اعمال اعلانیہ اسی لئے کرتے ہیں کہ ان کے مریدین و متعلقین کو ترغیب ہو۔