لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: لوگوں کوہدایت دے دینا تم پر لازم نہیں ،ہاں اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو تو وہ تمہارے لئے ہی فائدہ مند ہے اورتم اللہ کی خوشنودی چاہنے کیلئے ہی خرچ کرو اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پوراپورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

{لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ: لوگوں کو ہدایت دے دینا تم پر لازم نہیں۔} حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بشیر و نذیر اور داعی یعنی دعوت دینے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں ، آپ کا فرض دعوت دینے سے پورا ہوجاتا ہے اور اس سے زیادہ جدوجہد آپ پر لازم نہیں۔ یہ مضمون قرآن پاک میں بکثرت بیان کیا گیا ہے۔

{وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ: اور تم جو اچھی چیزخرچ کرو۔} ارشاد فرمایا گیا کہ تم جو خرچ کرتے ہواس کا فائدہ تمہیں ہی ہوگا کہ دنیا میں مال میں برکت اور آخرت میں ثواب کا ذخیرہ ہوگا۔ لہٰذا جب اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے تو جس پر خرچ کرتے ہواس پر احسان نہ جتاؤ بلکہ صرف اللہ تعالٰی کی رضا و خوشنودی کیلئے خرچ کرو اور ایک ذرہ برابر دنیوی نفع حاصل کرنے کی تمنا نہ کرو، اخلاص کے ساتھ کئے گئے عمل کا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ بارگاہِ الہٰی سے برابر کا صلہ تو ضرور دیا جائےگا اور فضلِ الہٰی سے وہ صلہ سات سو گناسے لے کر کروڑوں گنا تک ہوسکتا ہے۔