اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْاسمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(۲۸۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اترا اور ایمان والے، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہواے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ سب اللہ پراور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے ایمان لائے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اورانہوں نے عرض کی: اے ہمارے رب!ہم نے سنا اور مانا، (ہم پر) تیری معافی ہواور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔

{كُلٌّ اٰمَنَ: سب ایمان لائے۔} اصول و ضروریاتِ ایمان کے چار مرتبے ہیں :

(1)… اللہ  تعالٰی کی وحدانیت اور اس کی تمام صفات پر ایمان لانا۔

(2)…فرشتوں پر ایمان لانا اور وہ یہ ہے کہ یقین کرے اور مانے کہ وہ موجود ہیں ، معصوم ہیں ،پاک ہیں ، اللہ تعالٰی کے اور اس کے رسولوں کے درمیان احکام و پیغام کے واسطے ہیں۔

(3)… اللہ تعالٰی کی کتابوں پر ایمان لانا اوریہ عقیدہ رکھنا کہ جو کتابیں اللہ تعالٰی نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس وحی کے ذریعے بھیجیں وہ بے شک و شبہ سب حق اور سچ اور اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں اور قرآن کریم تَغیِیر، تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے اور مُحَکم ومُتَشابہ پر مشتمل ہے۔

(4)… رسولوں پر ایمان لانا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اللہ تعالٰی کے رسول ہیں جنہیں اُس نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا، تمام رسول اور نبی، اللہ تعالٰی کی وحی کے امین ہیں ، گناہوں سے پاک اور معصوم ہیں ، ساری مخلوق سے افضل ہیں ، ان میں بعض حضرات بعض سے افضل ہیں البتہ نبی ہونے میں سب برابر ہیں اور اس بات میں ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کریں گے۔ نیز ہم اللہ تعالٰی کے ہر حکم کو سنیں گے ، مانیں گے اور اس کی پیروی کریں گے۔ یاد رکھیں کہ ایمان مُفَصَّل کی بنیاد یہی آیت ِ مبارکہ ہے۔