لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠(۲۸۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے ربّ ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چُوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہواور ہمیں معاف فرما دے اور بخش دے اور ہم پر مِہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے، تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔ کسی جان نے جو اچھاکمایا وہ اسی کیلئے ہے اور کسی جان نے جو برا کمایا اس کا وبال اسی پر ہے ۔اے ہمارے رب! اگر ہم بھولیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرما ،اے ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے ہمارے رب!اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف فرمادے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر مہربانی فرما، تو ہمارا مالک ہے پس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

{لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔} اللہ تعالٰی کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، لہٰذا غریب پر زکوٰۃ نہیں ، نادار پر حج نہیں ، بیمار پر نماز میں قیام فرض نہیں ، معذور پر جہاد نہیں الغرض اس طرح کے بہت سے احکام معلوم کئے جاسکتے ہیں۔

{لَهَا مَا كَسَبَتْ:  کسی جان نے جو (نیک عمل) کمایا وہ اسی کیلئے ہے۔} آدمی کے اچھے عمل کی جزا اور اس کے برے عمل کی سزا اسی کو ملے گی۔ یہ آیتِ مبارکہ آخرت کے ثواب و عذاب کے بارے میں ہے لیکن اس کے ساتھ اس طرح کا معاملہ دنیا میں بھی پیش آتا رہتا ہے کہ ہر آدمی اپنی محنت کا پھل پاتا ہے، محنت والے کو اس کی محنت کا صلہ ملتا ہے جبکہ سست و کاہل اور کام چور کو اس کی سستی کا انجام دیکھنا پڑتا ہے۔ لوگوں سے بھلائی کرنے والا بھلائی پاتا ہے اور ظلم کرنے والا خود بھی زیادتی کا شکار ہوجاتا ہے۔

{رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا: اے ہمارے رب! ہماری گرفت نہ فرما۔}یہاں سے اللہ تعالٰی نے اپنے مؤمن بندوں کوایک اہم دعا کی تلقین فرمائی کہ وہ اس طرح اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے عرض کریں۔ دعا کا مفہوم ترجمے سے واضح ہے۔ اس دعا کو زبانی یاد کرلینا چاہیے۔ سورہ ٔبقرہ کی اِن آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت ہے۔

حضرت جُبَیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ اللہ تعالٰی نے سورہ ٔبقرہ کو ان دو آیتوں پر ختم فرمایا ہے جو مجھے اس کے عرش کے خزانہ سے عطا ہوئیں لہٰذا انہیں سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ کہ یہ نماز(یعنی نماز میں ان کی قراء ت کی جاتی ہے ) اور قرآن و دعا ہیں۔ (دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فضل اول سورۃ البقرۃ۔۔۔ الخ، ۲ / ۵۴۲، الحدیث: ۳۳۹۰)

{كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا:جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا۔} بنی اسرائیل پر کئی احکام ہم سے زیادہ سخت تھیجیسے بعض گناہوں کی توبہ میں خود کشی کرنا، ناپاک کپڑے کا جلانا، گندی کھال کاٹنا اور زکوٰۃ میں چوتھائی مال دینا۔ ان کے مقابلے میں ہم پر نہایت آسانیاں ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۶، ۱ / ۲۲۷)

 لہٰذا اعترافِ نعمت کے طور پر یہاں دعا میں عرض کیا جارہا ہے کہ اے ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا۔ یاد رہے کہ امتِ محمدیہ  عَلٰی صَاحِبَھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامْ پر یہ کرم نوازیاں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں ہیں جیسا کہ سورہ ٔاعراف آیت 157میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔