أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞

 ترجمہ:

اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں (اور مشقت اٹھاتے ہیں) ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھائیں گے اور بیشک اللہ ضرور محسنین (نیکی کرنے والوں) کے ساتھ ہے

والذین جاھدوا فینا کے دس محامل :۔

اس کے بعد اس سورت کی آخری آیت میں فرمایا : اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھائیں گے۔ اس آیت کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) جو لوگ ہماری نشانیوں سے ہم تک پہنچنا چاہتے ہیں ہم ضرور ان کو اپنی ذات کی معرفت کی ہدایت دیں گے ‘ یہ نشانیاں اس کے اپنے اندر بھی ہیں اور اس خارجی کائنات میں بھی ہیں ‘ انسان کے اندر اس کے جسمانی اعضا اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق اپنا اپنا کام کررہے ہیں جگر غذا سے خون بنا کر رگوں میں پہنچا رہا ہے اور فاضل تلچھٹ کو مثانہ میں بھیج رہا ہے ‘ معدہ غذاء کو ہضم کررہا ہے اور فاسد مادہ بڑی آنت میں بھیج رہا ہے ‘ یہ کس کا بنایا ہوا نظام ہے ؟ سورج طلوع ہو کر دن کی روشنی پہنچا رہا ہے تاکہ لوگ کاروبار حیات کو انجام دے سکیں اور غروب ہو کر رات کو لارہا ہے تاکہ لوگ دن کی تھکاوٹ اتار کر آرام کرسکیں ‘ سو یہ کس کا نظام ہے ! اللہ تعالیٰ نے غورو خوص کے لئے انسان کے اندر اور اس کے باہر اس کائنات میں یہ نشانیاں رکھی ہیں کہ انسان کے اندر اور اس کے باہر سب ایک ہی نظام کے تحت کام کر رہے ہیں اور اس کے اندر کے نظام کی وحدت اور اس کے باہر نظام کی وحدت یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے اس لئے فرمایا ہے :۔

عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے اس کائنات میں بھی اور خود ان کے اپنے نفسوں میں بھی حتیٰ کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ وہی حق ہے۔ (حم السجدۃ : ٥٣) سو جو لوگ اپنے اندر اور اپنے باہر کی نشانیوں میں غور وفکر کر کے اللہ تعالیٰ کو تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ضرور انہیں اپنی راہ دکھاتا ہے۔

(٢) جو لوگ اپنی جسمانی طاقت کو خرچ کر کے جہاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے لڑتے ہیں کفار سے جنگ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ضرور انہیں فتح اور کامرانی کی راہیں دکھاتا ہے۔

(٣) جو لوگ صدقہ و خیرات کر کے اور دین کو پھیلانے کے لئے مال خرچ کر کے دین کی ترویج اور اشاعت کی جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور انہیں دین کی ترویج اور اشاعت کی راہیں دکھاتا ہے۔

(٤) جو علماء دین عقائد فاسدہ اور بدعات سیہ کو رد کرنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے قرآن اور حدیث میں غور و فکر کر کے دلائل تلاش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ضرور ان کی ان دلائل کی طرف رہ نماء فرماتا ہے۔

(٥) جو علماء عقائد صحیحہ کیا ثبات کے لیے قرآن مجید کی آیات اور احادیث صحیحہ میں غور و فکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ضرور ان کو عقائد صحیحہ کی راہیں دکھاتا ہے۔

(٦) جو علماء احکام شرعیہ کے استخراج اور مسائل کے استنباط کے لیے قرآن اور سنت میں غورو فکر کرتے ہیں اللہ جل مجدہ ان کو ضرور ان عقائد کے اثبات کی طرف راہیں دکھاتا ہے۔

(٧) جو علماء علم میں وسعت کی طلب کے لیے احکام شرعیہ پر عمل کرتے ہیں اور خوف خدا سے گناہوں سے باز رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو وسعت علم کی راہیں دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اور تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ تمہیں علم عطا فرماتا رہے گا۔ (البقرہ : ٢٨٢)

اس حدیث کی تحقیق کہ جس نے اپنے علم کے مطابق عمل کیا 

اللہ اس کو ان چیزوں کا علم عطا فرماتا ہے جن کا اس کو علم نہیں 

حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی ٤٣٠ ھ لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل نے ذکر کیا کہ ازیزید بن ہارون ازحمید الطویل ازحضرت انس بن مالک (رض) مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے علم کے مطابق عمل کیا اس کو اللہ اس علم کا وارث کردے گا جس کو اس کا علم نہیں ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ١٠ ص ١٥ طبع قدیم ‘ حلیۃ الا ولیاء ج ١٠ ص ١٣‘ رقم الحدیث : ١٤٣٢٠ طبع جدید ‘ احیاء العلوم ج ١ ص ٧١ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٩ ھ ‘ الجامع الا حکام القرآن جز ١٣ ص ٣٣٦‘ الدر المثورج ١ ص ٣٧٢ طبع قدیم “ روح البیان ج ٦ ص ٦٣٢ حاثیۃ الصادی علی الجلالین ج ٤ ص ١٥٧٢‘ تفسیر بیضاوی مع الخفا حی ج ٧ ص ٣٦٨‘ حاثیۃ الجمل علی الجلا لین ج ٣ ص ٣٨٣) نیز حافظ ابو نعیم اس حدیث کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں : امام احمد نے ذکر کیا ہے کہ اس کلام کو بعض تابعین نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) سے روایت کیا ہے سو بعض راویوں نے یہ وہم کیا کہ یہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے تو انہوں نے ایک اسناد گھڑ کر یہ حدیث بنادی اور یہ حدیث اس اسناد کے ساتھ امام احمد بن حنبل سے محتمل نہیں ہے۔ علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ نے لکھا ہے یہ حدیث ضعیف ہے۔ (تذکرۃ الموضوعات ص ٢٠‘ داراحیاء التراث العربی) شیخ محمد علی الشوکافی متوفی ١٢٥٠ ھ نے لکھا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (الفوائد المجوعۃ ج ٢ ص ٣٢٧‘ مطبوعہ نزار مصطفیٰ ریاض)

علامہ سید محمد بن محمد زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کو حافظ ابو نعیم نے ضعیف کہا ہے (بلکہ موضوع کہا ہے) اور صاحب القوت نے اس کو بلا سند ذکر کیا ہے ‘ حافظ ابو نعیم نے اس حدیث کا ایک شاہد ذکر کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے دنیا میں بےرغبتی کی اس کو اللہ تعالیٰ بغیر علم سیکھے علم عطا فرمائے گا اور بغیر ہدایت حاصل کیے ہدایت دے گا اور اس کو صاحب بصیرت بنائے گا اور اس پر نامعلوم باتیں منکشف کردے گا۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ١ ص ٤٠٣‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) خلاصہ یہ ہے کہ ہرچند کہ یہ حدیث ضعیف یا موضوع ہے لیکن اس کا معنی ثابت ہے اور جو شخص مزید علم کے حصول کی نیت سے علم کے تقاضوں پر عمل کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کے لئے علم کی راہوں کو کشادہ کردے گا۔

(٨) جو شخص علم دین کی طلب میں محنت اور کوشش کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس پر علم دین کی راہیں کشادہ کردے گا۔

جہاد بالنفس کے جہاد اکبر ہونے کی تحقیق :۔

(٩) جو شخص اپنی شہوت کے تقاضوں کو ترک کرنے اور معصیت سے اجتناب کرنے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے گا تو اللہ اس کے لیے اس جہاد کی راہوں کو آسان کردے گا۔ حافظ ابو نعیم اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ذر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اللہ عزو جل کی ذات میں (یعنی اس کی رضا کے لیے) اپن نفس اور اپنی خواہش سے جہاد کرو۔ (حلیۃ الا ولیاء ج ٢ ص ٢٤٩ قدیم ج ٢ ص ٢ ٢٨‘ رقم الحدیث : ٢٢٣٢ جدید) حضرت فضالۃ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦٢١‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٢۔ ٢٠‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٢٤۔ ٤٧٠٦‘ المعجم الکبیر ج ١٨ رقم الحدیث : ٨٠٣۔ ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤۔ ٧٢)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تصریح فرمائی ہے کہ نفس سے جہاد کرنا جہاد اکبر ہے ‘ جیسا کہ صحابہ (رض) نے کہا کہ ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹے۔ (احیاء العلوم ج ٢ ص ٢١٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ ‘ تاریخ بغداد ج ١٣ ص ٤٩٣)

نفس کے جہاد سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے نفس پر قہر کر کے عبادات کی جائیں اور اللہ تعالیٰ کی معصیت سے اجتناب کیا جائے ‘ اور اس کو جہاد اکبر اس لیے فرمایا ہے کہ جو شخص اپے نفس سے جہاد نہیں کرسکے گا اس کے لیے خارجی دشمن سے جہاد کرنا ممکن نہیں ہوگا اور یہ کیوں کر ہو سکے گا کہ وہ دشمن جو اس کے دو پہلوئوں میں ہے اور وہ اس پر قاہر اور مسلط ہے ‘ سو جب تک وہ باہر کے دشمن سے لڑنے کے لیے اس اندر کے دشمن سے جہاد نہیں کرے گا اس کے لیے خارجی دشمن سے جہاد ممکن نہیں ہوگا اور خارجی دشمن کے مقابلہ میں باطنی دشمن سے جہاد کرنا جہاد اکبر ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج ٦ ص ٣٧٩‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی ١١٦٢ ھ لکھتے ہیں :

لوگوں کی زبان پر یہ حدیث مشہور ہے کہ ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹے اور جہاد اکبر قلب سے جہاد کرنا ہے ‘ حافظ ابن حجر نے تسدید القوس میں لکھا ہے کہ یہ ابراہیم بن علیہ کا کلام ہے ( یعنی حدیث نہیں ہے) عراقی نے کہا ہے کہ امام بیہقی نے اس کو سند ضعیف کے ساتھ حضرت جابر سے روایت کیا ہے اور خطیب نے اپنی تاریخ حضرت جابر سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ سے واپس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بندہ کا اپنی خواہش سے جہاد کرنا۔ (تاریخ بغداد ج ١٣ ص ٤٩٣‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ١٥٢٧٦‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦١٠٧ حافظ سیوطی نے لکھا ہے یہ حدیث ضعیف ہے ‘ کنزالعمال رقم الدیث : ١١١٢٦٠۔ ١٧٧٩‘ الدرالمشثرہ ص ١٧٥‘ رقم الحدیث ٢٥٢‘ الاسرار المرفوعۃ ص ١٢٧‘ رقم الحدیث : ٤٨٠‘ تذکرۃ الموضوعات ص ١٩١) اور لوگوں کی زبان پر یہ حدیث اس طرح مشہور ہے ‘ ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹے۔ (کشف الخفاء مزیل الالباس ج ١ ص ٤٢٥۔ ٤٢٤‘ مطبوعہ مکتبہ الغزالی دمشق)

(١٠) جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ‘ اس کے دیدار اور جنت کے حصول کے لیے محنت اور مشقت سے عبادت کرے ہم اس کے لیے جنت کی راہوں کو آسان کردیتے ہیں اور اس کو جنت کے راستوں کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں میں نے غور و فکر کرکے اس آیت کے دس محمل تلاش کیے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے میرے تلامذہ ‘ میرے احباب اور میرے قارئین کے لیے یہ دس محامل مہیا فرمادے۔ (آمین)

محسنین کا معنی اور مصداق 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور بیشک اللہ ضرور محسنین (نیکی کرنے والوں) کے ساتھ ہے۔ محسنین کا لفظ احسان سے بنا ہے اور احسان کا مادہ حسن ہے ‘ اور ہر اچھی اور مرغوب چیز میں حسن ہوتا ہے ‘ اور اس کی تین قسمیں ہیں جو عقلاً حسین ہو جیسے دقائق اور معارف ‘ قرآن اور حدیث کے نکات ‘ عمدہ اجتہاد ‘ کسی اعتراض کا مسکت جواب اور جو حسی طور پر حسین ہو جیسے لہلہاتے ہوئے کھیت اور مہکتے ہوئے باغات ‘ خوب صورت چہرے اور بلند وبالا عمارتیں ‘ اور جو نفسانی خواہش کے اعتبارے سے حسین ہو جیسے کھانے پینے کی لذیذ اور مرغوب چیزیں اور شہوت کے تقاضے پورے کرنے کی اجناس ‘ قرآن مجید میں ان چیزوں پر زیادہ تر مستحسن کا اطلاق ہے بصیرت کے لحاظ سے مستحسن ہوں جیسے فرمایا : جو لوگ غور سے بات سنتے ہیں پھر جو اچھی اور مستحسن بات ہو اس پر عمل کرتے ہیں۔ (الزمر : ١٨)

یعنی جو بات معصیت اور اس کے شبہ سے بعید ہو اس پر عمل کرتے ہیں ‘ حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ایمان کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا جب تمہیں شبہ اور جو تمہارے دل میں کھٹکے اس کو چھوڑ دو ۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٥٢) اور احسان کا اطلاق دو اعتبار سے کیا جاتا ہے ایک ہے کسی شخص پر انعام کرنا ‘ اور دوسرا قول اور فعل کا عمدہ ہونا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بیشک اللہ عدل کرنے اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (النحل : ٩٠)

احسان کا درجہ عدل سے زیادہ ہے ‘ عدل یہ ہے کہ کسی کا حق ادا کردیا جائے اور اپنا حق وصول کرلیا جائے اور احسان یہ ہے کہ حق سے زائد دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے ‘ عدل کرنا واجب ہے اور احسان کرنا مستحب ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے فرائض اور وججبات کو ادا کرنا عدل ہے اور فرائض اور واجبات کے علاوہ سنن اور نوافل کو ادا کرنا احسان ہے اور فرائض اور واجبات کو عمدگی سے ادا کرنے والے اور ان کے علاوہ سنن اور نوافل کو بھی عمدگی سے ادا کرنے والے محسنین ہیں۔ (المفردات ج ١ ص ١٥٦۔ ١٥٥‘ ملخصا موضحا ‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

حضرت جبریل (علیہ السلام) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : احسان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو بیشک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠‘ صحیح رقم الحدیث : ١٠۔ ٩۔ ٨‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٥٩٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٩٩٠‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٤ )

اس حدیث کے اعتبار سے محسنین وہ ہیں جو حسن الوہیت کی تجلیات میں اس طرح ڈوب کر نماز پڑھتے ہیں گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہے ہیں جیسا کہ ایک انصاری صحابی نماز پڑھ رہے تھے ‘ نماز میں ایک کافر نے ان پر تاک کر تیر مارے ‘ خون بہتا رہا اور وہ نماز میں منہمک رہے ‘ ان کو پتا بھی نہ چلا ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٩٨) امام بخاری کو نماز میں بھڑنے ستر ڈنک لگائے اور نماز سے ان کی توجہ نہ ہٹی (ہدی الساری ص ٦٦٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) امام اعظم نماز پڑھ رہے تھے ‘ مسجد کی چھت سے سانپ گرپڑا ‘ لوگ نکل کر بھاگے اور وہ اسی طرح نماز پڑھتے رہے۔ ( تفسیر کبیر ‘ ج ١ ص ٢١٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی) اسی طرح غوث اعظم (رض) وعظ فرما رہے تھے ‘ سانپ چھت سے گرا اور آپ کے جسم پر رینگنے لگا اس کی دہشت سے سب اہل مجلس بھاگ گئے اور آپ (رض) کے اطمینان و سکون میں کوئی فرق نہیں آیا ( قلائد الجواہر ص ٣٤‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی مصر) یہ کامل درجہ کے محسنین ہیں ‘ اور عام محسنین وہ ہیں جو نماز کم از کم اس یقین سے پڑھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ رہا ہے ‘ اور جب مجرم کو علم ہو کہ وہ حاکم کی بار گاہ میں کھڑ ہے اور وہ اس کو دیکھ رہا ہے تو وہ اس کو دیکھ رہا ہے تو وہ اس کے جلال اور ہیبت سے کس قدر لرزہ براندام ہوگا اور خوف سے کا نپ رہا ہوگا اسی طرح اللہ سے ڈرتے ہوئے وہ خضوع اور خشوع سے نماز پڑھے تو یہ عام محسنین کا مقام ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ احسان کا معنی ہے اخلاص ‘ یعنی محسنین وہ ہیں جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں وہ صرف اس نیت سے عبادت کریں کہ وہ صرف اللہ عزوجل کے حکم پر عمل کررہے ہیں اور ان کا مطلوب اور ان کی غرض صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ احسان کا ایک معنی یہ ہے کہ کسی بھی عبادت کو اس کی تمام شرائط اور آداب کے ساتھ بجا لانا اور اس عبادت میں کسی طور سے بھی کوئی مکر وہ اور ناپسندیدہ عمل نہ آنے دینا ‘ اس لحاظ سے محسنین وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ان کی شرائط او آداب کے ساتھ ادا کریں اور کسی طور سے بھی ان میں مکروہ پہلو نہ آنے دیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ محسنین وہ ہیں (١) جو اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات کے علاوہ سنن ‘ مستحبات اور نوافل کو بھی ادا کریں (٢) جو اللہ تعالیٰ کے احکام کو عمدگی سے ادا کریں (٣) جو حسن الوہیت میں ڈوب کر عبادت کریں (٤) جو بہت ادب ‘ احترام ‘ خضوع ‘ خشوع اور خوف خدا سے لرزتے ہوئے اس کی عبادت کریں (٥) جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں (٦) جو اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ان کی تمام شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کریں اور ان میں کوئی مکروہ عمل نہ آنے دیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ محسنین کے ساتھ ہے ‘ اس کا معنی ہے وہ دنیا میں ان کی نصرت اور اعانت فرماتا ہے اور ان کو دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے ‘ اور آخرت میں ان کی مغفرت فرمائے گا ‘ ان کو اپنے فضل سے اجروثواب ‘ جنت ‘ اپنا دیدار اور اپنی رضا عطا فرمائے گا۔

سورۃ العنکبوت کا اختتام 

آج بہ روز جمعرات مورخہ ٧ جمادی الاولی ١٤٢٣ ھ/١٨ جولائی ٢٠٠٢ ء بعد نماز فجر سورة العنکبوت کی تفسیر مکمل ہوگئی فالحمد اللہ رب العلمین ‘ ٢٣ جون ٢٠٠٢ کو اس سورت کی تفسیر کی ابتدا کی تھی ‘ اس طرح چھبیس دنوں میں اس کی تفسیر اختتام کو پہنچ گئی۔ الہٰ العلمین ! اس تفسیر کے لکھنے میں مجھ سے کوئی لغزش اور کوتاہی ہوگئی ہو اس کو معاف فرمانا اور اس کی اصلاح کی توفیق دینا ‘ اور آئندہ کے لیے سہو اور نسیان سے محفوظ رکھنا ‘ موافقین کے لیے اس کو استقامت اور مخالفین کے لیے ہدایت کا سبب بنادینا ‘ اور آئندہ کے لیے اس کو استقامت اور مخالفین کے لیے ہدایت کا سبب بنادینا اور محض اپنے فضل سے اس کو قبول فرمالینا ‘ جس طرح محض اپنے کرم سے یہاں تک تفسیر لکھوا دی ہے قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی محض اپنے فضل سے مکمل کرادینا ‘ تاحیات اسلام پر قائم رکھنا ‘ عزت اور کرامت سے ایمان پر خاتمہ فرمانا ‘ سکرات موت کو آسان فرمانا ‘ مرنے سے پہلے اپنے حبیب اور میرے مولیٰ سید نا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت سے شاد کام کرنا اور مرنے کے بعد آپ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمانا ‘ دنیا اور آخرت کی ہر بلاء اور ہر عذاب سے محفوظ رکھنا اور دارین کی سعادتوں سے نوازنا ‘ جنت الفردوس ‘ اپنا دیدار اور اپنی رضا عطا فرمانا۔ آمین یا رب العلمین بجاہ نیک سیدنا محمد خاتم النبین ‘ قائد المرسلین ‘ شفیع المذنبین وعلی آلہ الطیبین وعلی اصحابہ الر اشدین وعلی ازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملۃ اجمعین۔

القرآن – سورۃ نمبر 29 العنكبوت آیت نمبر 69