أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ حِيۡنَ تُمۡسُوۡنَ وَحِيۡنَ تُصۡبِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پس شام کے وقت اللہ کی تسبیح کرو اور جب تم صبح کو اٹھو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس شام کے وقت اللہ کی تسبیح کرو اور جب تم صبح کو اٹھو اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں ‘ آسمانوں میں اور زمینو میں اور پچھلے پہر اور دوپہر کو وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جائو گے (الروم : ١٩۔ ١٧)

پانچ نمازوں کے اوقات 

اس آیت میں مسلمانوں کو عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اور ان اوقات میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے اوقات کو بیان فرمایا ہے ‘ مغرب اور عشاء کی نماز کا وقت ‘ اس آیت کے اس حصہ میں ہے پس شام کے وقت الللہ کی تسبیح کرو ‘ اور فجر کا وقت اس حصہ میں ہے۔ اور جب تم صبح کو اٹھو ‘ اور دوسری آیت میں فرمایا اور پچھلے پہر اس میں عصر کا وقت ہے ‘ اور فرمایا : اور دوپہر کو اس میں ظہر کا وقت ہے۔ اور دوسری آیت کے شروع میں جو فرمایا ہے : اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں آسمانوں میں اور زمنیوں میں ‘ یہ جملہ معترضہ ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢١٢٦١‘ جز ٢١ ص ٣٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اس آیت کا معنی اس طرح ہے ان پانچ اوقات کی نمازوں میں اللہ سبحانہ کی تسبیح کرو ‘ نماز کو تسبیح سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ تسبیح نماز کا جز ہے کیونکہ ثناء میں پڑھا جاتا ہے سبحانک اللھم اور رکوع میں پڑھا جاتا ہے سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں پڑھا جاتا ہے سبحان ربی الاعلی اور اس آیت میں کل پر جز کا اطلاق کیا گیا ہے اور کل کو جز کا نام دیا گیا ہے ‘ اور قرآن مجید کی آیتوں میں بھی نماز پر تسبیح کا اطلاق کیا گیا ہے :

اور (نماز میں) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے ‘ آفتاب کے طلوع سے پہلے (نماز فجر میں) اور آفتاب کے غروب سے پہلے (نماز عصر میں ) اور رات کے بعض اوقات میں ( مغرب اور عشاء کی نمازوں میں) اور دن کے درمیانی کناروں میں اس کی تسبیح کیجئے (ظہر کے وقت میں) تاکہ آپ راضی ہوجائیں۔ (طہٰ : ١٣٠)

اور حدیث میں بھی نفل نماز پر سبحۃ کا اطلاق کیا گیا ہے۔

حضرت ابوالدرداء (رض) بیا کرتے ہیں کہ میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جن کو میں بالکل ترک نہیں کرتا (١) مجھے ہر ماہ تین روزے رکھنے کی وصیت کی ہے (٢) میں وتر پڑھے بغیر نہ سوئوں (٣) اور یہ کہ میں سفر میں اور حضر میں تسبیحۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کو ترک نہ کروں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٤٣٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٧٥‘ ج ٦ ص ٤٥١۔ ٤٤٠)

حضرت حفصہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سبحۃ (نفل نماز) کبھی پیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ وفات سے ایک سال پہلے آپ سبحۃ (نفل نماز) کو بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٨٨‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٦٥٧‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٨٥)

امام ابو اساق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی النیشاپوری متوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے صبح یہ آیت وکذالک تخرجون تک پڑھی اس کی دن کی تقصیرات کی تلافی ہوجائے گی اور جس نے شام کو یہ آیت پڑھی اس کی رات کی تقصیرات کی تلافی ہوجائے گی۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٧٦) (الکثف والبیان ج ٧ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 17