أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً  ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کی تاکہ تم ان سے سکون حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ‘ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم کو ان سے سکون حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ‘ بیشک اس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الروم : ٢١ )

مردوں اور عورتوں کے متناسب جنسی تقاضوں اور ان کی متوازن :۔

شرح پیدائش سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال 

اس آیت میں فرمایا ہے اس نے تمہارے نفسوں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے ‘ اس کا ایک محمل یہ ہے کہ حضرت آدم کے جسم سے حضرت حوا کو پیدا کردیا ‘ لیکن یہ محمل صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ نشانی تمام انسانوں میں جاری نہیں ہوگی اس لیے اس کا صحیح محمل یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے ‘ جس طرح فرمایا لقد جاء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٨) تحقیق تمہارے پاس تمہاری جنس سے رسول آگئے ‘ نیز اس کے بعد فرمایا تاکہ تم کو ان سے سکون حاصل نہیں کرسکتے اور جب ایک جنس کے دو افراد ہو تو وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کرتے ہیں ‘ نیز فرمایا اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی۔

نسل انسانی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ مرد عورت کشت میں تخم ریزی کرے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے درمیان غیر معمولی محبت پیدا کردی حالانکہ یہ عمل اس قدر حیاء سوز ہے کہ عام حالات میں انسان یہ عمل نہ کرتا ‘ لیکن نسل انسانی کی افزائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو اس قدر پرکشش بنادیا ہے کہ انسان اس عمل کو ترک نہیں کرسکتا ‘ اور مرد اور عورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمدردی بھی رکھ دی یہی وجہ ہے کہ جب دونوں ضعیف ہوجاتے ہیں اور اس عمل کے قابل نہیں رہتے تو وہ ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

پھر جب عورت کے رحم میں نطفہ کا اسقرار ہوجاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا کمال ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ بہ تدریج نشوو نما پاتا ہے اور نو ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ اگر بالفرض مرد اور عورت کے ختلاط اور ملاپ کے فوراً بعد عورت کے پیٹ میں سات آٹھ پونڈ کا بچہ بن جاتا تو عورت کے لیے مشکل ہوجاتی اور وہ اس کو سہار نہ سکتی سو اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ بچہ کی نشو ونما کرتا ہے اور اس کا وزن بڑھاتا ہے حتی کہ عورت کے لیے وہ وزن نامانوس نہیں ہوتا اور سہل اور آسان ہوجاتا ہے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ سخت گرمی کے بعد اچانک سخت سردی نہیں لاتا اور سخت سردی کے بعد فوراً سخت گرمی نہیں لاتا بلکہ موسم میں بہ تدریج تبدیلی لاتا ہے تاکہ انسان کا جسم موسم کے ساتھ مانوس ہوجائے اسی طرح اللہ عزوجل نے ماں کے پیٹ میں بچہ کو بھی نو ماہ میں مکمل کیا ہے تاکہ ماں اس کے وزن کے ساتھ بہ تدریج عادی اور ہم آہنگ ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کبیر کو بھی بہ تدریج چھ دنوں میں پیدا فرمایا ہے حالانکہ وہ اس پر قادر ہے کہ ایک لفظ کن سے دفعۃً اس عالم کو پیدا کر دے ‘ اور انسان عالم صغیر ہے وہ اس کو بھی چشم زدن میں لفظ کن سے پیدا کرنے پر قادر ہے لیکن جس طرح اس نے عالم کبیر کو تدریجاً پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے عالم صغیر کو بھی تدر یجاً پیدا فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت میں سے ہر ایک کا جسم ‘ دوسرے کے جنسی تقاضوں اور طلب کے موافق بنایا ہے ‘ پھر ایک متوازن اور متناسب تعداد میں ہر ایک کی پیدائش ہو رہی ہے ‘ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قبیلہ یا کسی قوم میں صرف لڑکے پیدا ہوں اور دوسری قوم یا قبیلہ میں صرف لڑکیاں پیدا ہوں ‘ ہزاروں سال سے یہ سلسلہ یو نہی جاری ہے اور ایک معروف اور منضبط طریقۃ سے انسانوں کی پیدائش کا یہ سلسلہ کوئی بخت و اتفاق کا کرشمہ ہے اور نہ کئی خدائوں کی مشترکہ کاوش ہے بلکہ اسی قادر وقیوم کی قدرت کا شاہکار ہے جو واجب اور قدیم ہے او واحد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 21