زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کاسازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔

{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا۔} لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا، چنانچہ عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات کی محبت لوگوں کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور اِس آراستہ کئے جانے اوران چیزوں کی محبت پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے ،چنانچہ سورۂ کہف ، آیت7 میں صراحت سے ارشاد فرمایا

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)(سورۃ الکہف:۷)

ترجمۂ  کنزالعرفان:بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس لئے زینت بنایا تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔

 چنانچہ یہ چیزیں ایسی مرغوب ہوئیں کہ کافر تو بالکل ہی آخرت سے غافل ہو گئے اور کفر میں جاپڑے جبکہ دوسرے لوگ بھی انہی چیزوں کی محبتوں کے اسیر ہوگئے حالانکہ یہ تو دنیاوی زندگی گزارنے کاسامان ہے کہ اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر یہ سامانِ دنیا فنا ہوجاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا کے سامان کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور آخرت کی سعادت ہو۔یہ تمام چیزیں اگر دنیا کے لئے رکھی جائیں تو دنیا ہیں اور اگراطاعت ِ الہٰی میں مددو معاونت کے لئے رکھی جائیں تو دین بن جاتی ہیں جیسے بیوی، اولاد، مال، سواری، زمین وغیرہ تمام چیزیں اگر اپنے دین کی حفاظت اوراللہ تعالٰی کی اطاعت میں معاونت کیلئے ہوں تو یہی چیزیں قرب ِ الہٰی کا ذریعہ ہیں جیسے حضرت عثما نِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال دنیا نہیں ، دین تھا۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ’’ دنیا کاسامان تو محض ایک سامان ہی ہے، رغبت و محبت اور حرص و طلب کے قابل تو رضائے الہٰی کا مقام یعنی جنت ہے لہٰذا  اس کی رغبت کرنی چاہیے اور اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمارے لئے اس آیت میں بہت اعلیٰ درس ہے ۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی انہی دنیاوی چیزوں کی محبت میں مبتلا ہے، اہلِ خانہ اور اولاد کی وجہ سے حرام کمانا، مال و دولت کو اپنا مقصودِ اصلی سمجھنا، اسی کیلئے دن رات کوشش کرنا،بینک بیلنس بڑھانا، اپنے اثاثوں میں اضافہ کرنا، بہترین لباس، عمدہ مکانات اورشاندار گاڑی ہی تقریباًہر کسی کا نَصبُ العَین اور مقصود و مطلوب ہے۔ اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھ کر ہمیں بھی اپنی زندگی پر کچھ غور کرنا چاہیے۔([اپنی زندگی قرآن وسنّت کے احکامات کے مطابق گزارنے کے لئے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ ،، مدنی انعامات،، پر عمل بہت مفید ہے۔])