فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِؕ-وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْؕ-فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠(۲۰)

ترجمۂ  کنزالایمان: پھر اے محبوب اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ کیا تم نے گردن رکھی پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: پھر اے حبیب!اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تم فرمادو :میں تواپنا منہ اللہ کی بارگاہ میں جھکائے ہوئے ہوں اور میری پیروی کرنے والے بھی۔ اور اے حبیب ! اہلِ کتاب اور اَن پڑھوں سے فرمادو کہ کیا تم (بھی) اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کرلیں جب تو انہوں نے بھی سیدھا راستہ پالیا اور اگر یہ منہ پھیریں تو تمہارے اوپر تو صرف حکم پہنچا دینا لازم ہے اور اللہ بندوں کودیکھ رہا ہے۔

{فَاِنْ حَآجُّوْكَ: پھر اگر وہ تم سے جھگڑا کریں۔} دینِ اسلام کی حقانیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، اگر وہ تم سے تمہارے یا اسلام کے حق ہونے کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم انہیں فرما دو کہ تم مانو یا نہ مانو، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں اور میرے پیروکار تو اللہ تعالٰی کے فرمانبردارو مطیع ہیں۔ نیز ان اہلِ کتاب یعنی یہودیوں ، عیسائیوں اوران پڑھوں یعنی اَن پڑھ اہلِ کتاب اور مشرکوں سے مزید یہ بھی فرمادو کہ کیا ہماری طرح تم بھی اسلام قبول کرتے ہو؟ اگریہ اسلام قبول کرلیں تب تو یہ بھی سیدھی راہ والے ہوجائیں گے لیکن اگر یہ اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں تو تمہاری شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ تمہارے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ تمہارے اوپرتواللہ تعالٰی کی طرف سے صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم انہیں پہنچادو۔ بقیہ ان کا معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کردو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اور اپنے سب بندوں کودیکھ رہا ہے۔