نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ(۳) مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ۬ؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری۔ لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری جوپہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اس نے اس سے پہلے تورات اور انجیل نازل فرمائی۔ لوگوں کوہدایت دیتی اور (اللہ نے ) حق وباطل میں فرق اتارا ۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اوراللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔

{مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ: اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔} اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کے بعد کوئی کتاب آنے والی نہیں اور نہ کوئی نیا نبی تشریف لانے والا ہے کیونکہ قرآن مجید نے گزشتہ کتابوں کی تصدیق کی ہے، بعد میں نہ کسی کتاب کے آنے کا تذکرہ کیا اور نہ اس کی بشارت دی جبکہ قرآن پاک کو چونکہ تورات و انجیل کے بعد آنا تھا اس لئے ان کتابوں میں قرآن کی بشارت پہلے سے دیدی گئی۔