هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶)

ترجمۂ  کنزالایمان: وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: وہی ہے جوماؤں کے پیٹوں میں جیسی چاہتا ہے تمہاری صورت بناتا ہے ،اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ ) زبردست ہے، حکمت والا ہے۔

{هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ: وہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورت بناتا ہے ۔} ایک بے قدر چیز کو انسانی شکل میں ڈھال دینا، اسے مرد یا عورت، گورا یا کالا، خوب صورت یا بدصورت بنانا اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کی شکل بنانا، اس میں روح پھونکنا، اس کی تقدیر لکھنا یہ سب کچھ فرشتہ کرتا ہے لیکن فرشتہ چونکہ اللہ تعالٰی کے حکم اور اختیار سے کرتا ہے لہٰذا فرمایا کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ تم میں سے ہر ایک کی خِلْقَت اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھی جاتی ہے، پھر وہ خون کے لوتھڑے کی صورت ہو جاتا ہے، پھر گوشت کی بوٹی کی طرح ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالٰی ایک فرشتہ بھیجتا ہے جسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل ،رزق، دنیا میں رہنے کی مدت اور بد بخت یاسعادت مند ہونا لکھو۔ پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔(بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲ / ۳۸۱، الحدیث: ۳۲۰۸)