رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةًۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)

ترجمۂ  کنزالایمان: اے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک تو ہے بڑا دینے والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے ،اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بیشک تو بڑاعطا فرمانے والاہے۔

{رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا: اے ہمارے رب !ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔} ہدایت ملنا بہت بڑی چیز ہے لیکن اس کا فائدہ تبھی ہے جب یہ باقی بھی رہے۔ اگر ساری زندگی کوئی ہدایت پر رہے لیکن مرتے وقت ہدایت چھن جائے تو ایسی ہدایت کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا  ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیمِ‘‘ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔(بخاری، کتاب القدر، باب العمل بالخواتیم، ۴ / ۲۷۴، الحدیث: ۶۶۰۷)

 اسی لئے بڑے سے بڑا مومن بھی اپنے خاتمے کے بارے میں خوف کرتا رہے اور لمحہ بھر کے لئے بھی برے خاتمے سے بے خوف نہ ہو۔ اِس آیتِ مبارکہ کا بکثرت پڑھتے رہنا یعنی یہ دعا مانگتے رہنا بھی خاتمہ بالخیر کیلئے مفید ہے۔(خاتمہ بالخیر کی فکر اجاگر کرنے کے لئے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسالے ،، برے خاتمے کے اسباب،، کا مطالعہ کیجئے۔)