أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اسی دین پر قائم رہو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جائو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اسی دین پر قائم رہو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جائو ان لوگوں میں سے (نہ ہو جائو) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ گروہ در گروہ ہوگئے ہر گروہ اسی سے خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس (الروم : ٣٢۔ ٣١)

منیب کا معنی 

اس آیت کے شروع میں فرمایا منیبین الیہ ‘ یہ لفظ انابت سے بنا ہے ‘ اس کا معنی ہے قطع کرنا ‘ اسی وجہ سے ڈاڑھ کو ناب کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی قطع کرتی ہے اور دنیا سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کو انابت کہتے ہیں ‘ اور جب کوئی شخص ایک بار کے بعد دوسری بار رجوع کرے تو اس کو بھ یانابت کہتے ہیں ‘ اور جو شخص بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اس کو منیب کہتے ہیں۔ اور اس آیت میں اس کا معنی ہے جو لوگ توبہ اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ‘ یحییٰ بن سلام نے کہا اس کا معنی ہے ‘ اللہ جل مجدہ کی طرف متوجہ ہونے والے ‘ عبدالرحمان بن زید نے کہا اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ‘ اور اس کا معنی یہ بھی ہے اپے گناہوں سے اللہ کی طرف توبہ کرنے والے۔

اور فرمایا : اللہ سے ڈرتے رہو ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس کی اطاعت کرتے رہو۔

نماز کے عمداً ترک کرنے کو کفر اور شرک قرار دینے کی توجیہ 

اس کے بعد فرمایا : اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہوجائو۔

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے ‘ سو جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٦٢١‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٣‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٤٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٧٩‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٤٥٤‘ الکامل لابن عدی ج ٣ ص ٨٩٦‘ المستدرک ج ١ ص ٧‘ سنن الکبری للبیہقی ج ٣ ص ٣٦٦ )

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندے اور شرک کے درمیان صرف نماز کو ترک کرنا ہے ‘ اور جب بندہ نے نماز کو ترک کیا تو اس نے شرک کیا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٨٠‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤١٠٠‘ اس حدیث کی سند میں ایک راوی یزیدبن ابان الرقاشی ضعیف ہے لیکن اس کا متن صحیح)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس نے عمداً نماز کو ترک کیا اس نے ظاہر اً کفر کیا۔(المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٣٣٤٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢٠ ھ ‘ مجمع الزوائد ج ١ ص ٢٩٨‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس کی سند کی توثیق کی گئی ہے)

اس حدیث میں عمداً نماز کے ترک کرنے کو کفر اور شرک قرار دیا ہے ‘ لیکن اس کا محمل یہ ہے کہ جب نماز کو غیر اہم اور معمولی سمجھ کر ترک کیا جائے یا نماز کی فرضیت کا انکار کر کے ترک کیا جائے یا نماز کی اہانت کرتے ہوئے اس کو ترک کیا جائے تو پھر یہ کفر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 31