اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۱)

ترجمۂ  کنزالایمان: وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے ہیں اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔} یہاں بنی اسرائیل کے تین جرائم کا بیان کیا گیا ہے:

(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیات کا انکار کرنا۔

(2) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کرنا۔

(3) انصاف کا حکم دینے والوں کو قتل کرنا۔

چنانچہ بنی اسرائیل نے ایک مرتبہ صبح کے وقت تینتالیس نَبِیُّوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا پھر جب ان میں سے ایک سو بارہ عابدوں نے اٹھ کر انہیں نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا تو اسی روز شام کو انہیں بھی قتل کردیا۔(مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۱۵۴)

اس آیت میں نبیٔ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانہ کے یہودیوں کی مذمت اس لئے ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے ایسے بدترین فعل سے راضی تھے۔