هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸)

ترجمۂ  کنزالایمان: یہاں پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعاسننے والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا مانگی ،عرض کی :اے میرے رب! مجھے اپنی بارگاہ سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعاسننے والاہے۔

{ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ:  وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا مانگی۔} حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے جب اس جگہ پر اللہ تعالٰی کی کرم نوازی دیکھی تو وہیں یعنی بیت ُالمقدس کی محراب میں دروازے بند کرکے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی۔

آیت’’هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ‘‘ سے معلوم ہونے والے دعا کے آداب:

            اس آیت سے چند چیزیں معلوم ہوئیں۔

(1)… جس جگہ رحمت ِ الہٰی کا نزول ہوا ہو وہاں دعا مانگنی چاہیے جیسے جس مقام پر حضرت مریم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو غیب سے رزق ملتا تھا وہیں حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے دعا مانگی۔ اسی وجہ سے خانہ کعبہ اور تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روضہ اقدس اور مزاراتِ اولیاء پر دعا مانگنے میں زیادہ فائدہ ہے کہ یہ مقامات رحمت ِ الہٰی کی بارش برسنے کے ہیں۔

 (2)…علماءِ کرام نے اس جگہ کو مقبولیت کے مقامات سے شمار کیا جہاں کسی کی دعا قبول ہوئی ہو۔ لہٰذا جہاں اولیاءِ کرام  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا وجود ہو یا جہاں وہ رہے ہوں وہاں دعا کرنی چاہیے کیونکہ اولیاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ بکثرت دعا کرتے ہیں اور ان کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو جہاں وہ رہے ہوں گے وہاں دعائیں ضرور قبول ہوئی ہوں گی۔

(3)… حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے پاکیزہ اولاد کی دعا مانگی۔ معلوم ہوا کہ صرف اولاد کی دعا نہیں کرنی چاہیے کہ اولاد تو زبردست آزمائش بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا پاکیزہ کرداروعمل والی اولاد کی دعا کرنی چاہیے تاکہ اس سے دنیا و آخرت کاسکھ ملے۔