قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۴۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: بولی اے میرے رب میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا،فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے، جب کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: ( مریم نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اللہ نے فرمایا :اللہ یوں ہی جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے صرف اتنا فرماتا ہے ، ’’ ہوجا ‘‘تو وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔

{اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ: میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا؟} جب فرشتوں نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بیٹے کی بشارت دی تو انہوں نے حیرت سے عرض کیا: یا اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے ملاپ سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا ، نکاح سے یا یوں ہی بغیر مرد کے؟ جواب ملا کہ اسی حالت میں یعنی  تم کنواری ہی رہو گی اور فرزند پیدا ہو جائے گا، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑی قدرت والا ہے اور اس کی شان یہ ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے صرف اتنا فرماتاہے ، ’’ ہوجا ‘‘تو وہ کام فوراً ہوجاتا ہے ۔