اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۵۱)

ترجمۂ  کنزالایمان:  بیشک میرا تمہاراسب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو،یہ ہے سیدھا راستہ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: بیشک اللہ میرااور تمہاراسب کا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ: بیشک اللہ میرااور تمہاراسب کا رب ہے۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمانا اپنی عَبْدِیَّت یعنی بندہ ہونے کا اقرار اور اپنی ربوبیت یعنی رب ہونے کا انکار ہے اس میں عیسائیوں کا رد ہے۔ گویا فرمایا کہ  میں اتنی قدرتوں اور علم کے باوجودبھی خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء واولیاء کے معجزات یا کرامات ماننا شرک نہیں اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم نے انہیں رب مان لیا۔ اس سے مسلمانوں کو مشرک کہنے والوں کو عبرت پکڑنی چاہیے۔