أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُعۡفًا وَّشَيۡبَةً  ‌ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ‌ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ ۞

ترجمہ:

اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ‘ پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کیا وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ بہت علم والا بےحد قدرت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ‘ پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی ‘ پھر اس قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کیا ‘ اور وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے ‘ اور وہ بہت علم والا بےحد قدرت والا ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھا کر کہیں گے ہم صرف ایک ساعت ٹھہرے تھے وہ اسی طرح بھٹکتے ہوئے رہے (الروم : ٥٥۔ ٥٤ )

عذاب قبر کے متعلق احادیث 

کمزوری کی حالت میں پیدا کیا اس سے انسان کی پیدائش کی حالت اور اس کے بچپن کی حالت مراد ہے ‘ کیونکہ اس وقت اس کا جسم اور بدن کمزور ہوتا ہے ‘ اور کمزوری کے بعد قوت دی اس سے اس کی جوانی کی حالت مراد ہے پھر بہ تدریج اس میں ضعف پیدا کیا ‘ وہ پہلے ادھیڑ عمری کی حالت میں پہنچا ‘ پھر وہ بڑھاپے میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ قوت کے بعد کمزوری کی حالت ہے۔

اس کے بعد فرمایا اور جس دن قیامت قائمہو گی مجرم قسم کھا کر کہیں گے ‘ ہم صرف ایک ساعت ٹھہرے تھے ‘ آیت کے اس حصے سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ مشرکین نے عذاب قبر کا ذکر نہیں کیا ‘ اگر انہیں قبر میں عذاب ہوا ہوتا تو وہ اس کا بھی ذکر کرتے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمادیا اور وہ اسی طرح بھٹکتے ہوئے رہے ‘ یعنی جس طرح وہ دنیا میں جھوٹ بولتے تھے اور گمراہی میں مبتلا رہتے تھے اور حق سے منحرف ہوتے تھے اسی طرح اب بھی حق سے منحرف ہورہے ہیں ‘ اور یہ جھوٹی قسم کھا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت رہے تھے۔

عذاب قبر کے ثبوت میں متعدد احادیث ہیں ‘ بعض ازاں یہ ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام حبیبہ (رض) کو دعا میں یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے اپنے شوہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے والد حضرت ابوسفیان اور اپنے بھائی حضرت معاویہ سے نفع پہنچانا ‘ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں اور عمروں کے متعلق سوال کیا جو مقدر ہوچکی ہیں اور ان روزیوں (ارزاق) کے متعلق سوال کیا ہے جو تقسیم کی جاچکی ہیں ‘ لیکن تم اللہ سے یہ سوال کرو کہ وہ تم کو دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٦٣ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ‘ اور دوزخ کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٧٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٨٩‘ سنن ابودائود ٨٨٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 54