بسم اللہ الرحمن الرحیم 

نحمدہ و نصلی وسلم رسولہ الکریم 

سورۃ لقمان 

سورت کا نام 

اس سورت کا نام لقمان ہے کیونکہ اس سورت کی ایک آیت میں لقمان کا ذکر ہے اور اس سورت میں لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں اور اس کا قصہ بیان کیا گیا ہے ‘ جس آیت میں لقمان کا ذکر ہے وہ یہ ہے :

اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ تم اللہ کا شکر دا کرو ‘ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ صرف اپنے نفس کے فائدہ کے لیے شکر ادا کرتا ہے ‘ اور جو ناشکری کرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ‘ حمد کیا ہوا ہے۔ (لقمان : ١٢)

اس سورت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ مشرکین قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ وہ ان کو لقمان اور اس کے بیٹے کے متعلق بتائیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کردی۔

سورۃ لقمان کا زمانہ نزول 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

النحاس نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة لقمان مکہ میں نازل ہوئی ہے ماسوا تین آیتوں کے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ (لقمان : ٢٩۔ ٢٨۔ ٢٧ ) ۔

امام ابن مردویہ اور امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت ابن عاس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة لقمان مکہ میں نازل ہوئی ہے۔

حضرت البراء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور لقمان اور الذاریات سے سورت کے بعد دوسری سورت سنتے تھے۔ ( سنن بان ماجہ ررق الحدیث : ٨٣٠‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٩٧١)

(الدرالمثور ج ٦ ص ٤٤٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

جن تین آیتوں کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں ان کے مدینہ میں نازل ہونے کی روایات ضعیف ہیں ‘ سورة العنکبوت اور سورة لقمان دونوں کے نزول کا زمانہ تقریباً ایک ہے ‘ جب نئے اسلام لانے والے نوجوانوں کو انکے والدین اسلام کو چھوڑ نے پر مجبور کرتے تھے ‘ اس موقع پر ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ماں باپ کی خدمت اور اطاعت ضروری ہے لیکن شرک اور اللہ تعالیٰ کے دیر احکام کی نافرمانی کرنے میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔

ترتیب مصحف کے اعتبار سے سورة لقمان کا نمبر ٣١ ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے اس کا نمبر ٥٧ ہے ‘ یہ سورت سورة لصّٰفّٰت کی کے بعد اور سورة سباء سے پہلے نازل ہوئی ہے۔

سورۃ لقمان کی سورة الروم سے مناسبت 

سورۃ الروم کی آخری آیتوں میں سے یہ آیت ہے :

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کی ہے۔ (الروم : ٥٨ )

اور سورة لقمان کی ابتدائی آیتیں یہ ہیں :

الف ‘ لام ‘ میم یہ کتاب حکیم کی آیتیں ہیں یہ کتاب نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ (لقمان : ٣۔ ١)

اس طرح سورة الروم کا آخر اور سورة لقمان کا اول دونوں قرآن مجید کی صفات کے بیان میں ہے۔

اسی طرح ان دونوں سورتوں میں فرمایا کہ مشرکین مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کیے ہوئے دلائل اور معجزات سے اثر قبول نہیں کرتے اور ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ سورة الروم میں فرمایا :

اور اگر آپ ان کے پاس کوئی (نیا) معجزہ لے کر آئیں تو یہ کفار ضرور یہ کہہ دیں گے کہ آپ تو صرف جھوٹے اور جادو کرنے والے ہیں۔ (الروم : ٥٨ )

اور سورة لقمان میں فرمایا :

اور جب اس کے اوپر ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ تکبر کرتا ہوا پیٹھ پھیر لیتا ہے۔ (لقمان : ٧)

ان دونوں سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جب مشرکین پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اخلاص کے ساتھ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور جب ان سے وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو وہ پھر اللہ تعالیٰ کو بھوجاتے ہیں ‘ سورة الروم میں فرمایا :

اور جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے دعائیں کرتا ہے ‘ پھر جب اللہ اس کو اپنی رحمت چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک فریق اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ (الروم : ٣٣)

اور سورة لقمان میں فرمایا :

اور جب (سمندر کی) موجیں ان پر سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو یہ اخلاص کے ساتھ اللہ کو مانتے ہوئے اس سے دعا کرتے ہیں ‘ پھر جب اللہ ان کو خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے بعض معتدل رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو عہد شکن اور بہت ناشکرے ہیں۔ (لقمان : ٣٢)

اسی طرح ان دونوں سورتوں میں فرمایا انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے ‘ سورة الروم میں فرمایا :

اور وہی ہے جس نے ابتداء مخلوق کو پیدا کیا ‘ پھر اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے۔ (الروم : ٢٧ )

اور سورة لقمان میں فرمایا :

تم سب کو پیدا کرنا اور تم سب کو دوبارہ زندہ کرنا اس کے نزدیک صرف ایک شخص کو زندہ کرنے کے مانند ہے۔ (لقمان : ٢٨ )

سورۃ لقمان کے مشمولات 

اس سورت کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائمی معجزہ سے شروع کیا گیا ہے ‘ اور وہ قرآن میجد ہے ج واللہ تعالیٰ کی ہدایت کا دستور ہے اور یہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے متعلق لوگوں کے مختلف گروہ ہوگئے ‘ مومنین نے قرآن مجید کی تصدیق کی اور وہ جنت کے مستحق قرار پائے اور کفار نے قرآن ھمجید کے ساتھ استہزاء کیا اور اس کا انکار کیا اور اپنی جہالت اور تکبر سے گمراہی کا راستہ اختیار کیا اور دائمی درد ناک عذاب کے مستحق ہوگئے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قدرت پر دلائل قائم کیے اور اس کے بعد لقمان حکیم کا قصہ بیان فرمایا کہ اس نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحتیں کی تھیں اور اس سے مقصود لوگوں کو ہدایت دینا تھی کہ وہ شرک کو چھوڑ دیں ‘ ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں اور ہر قسم کے صغیرہ اور کبیرہ گناہ سے بچیں ‘ اور نماز قائم کریں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ‘ تواضع اور انکسار کو اختیار کریں اور تکبر نہ کریں ‘ زمین پر نرمی اور آہستگی سے چلیں اور اپنی آوازیں پست رکھیں۔

اس کے بعد ان مشرکین کی مذمت کی جو شرک پر اصرار کرتے تھے اور توحید کے دلائل کا مشاہدہ کنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو واحد نہیں مانتے تھے ‘ اور اپنے آبائو اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی غیر متناہی نعمتوں کی ناشکری کرتے تھے ‘ اور ان کو یہ خبر دی کہ نجات کا طریقہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سراطاعت کو جھا دیا جائے اور نیک اعمال انجام دیئے جائیں ‘ اور مشرکین کے عقائد کا تضاد بیان فرمایا کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا صرف اللہ بزرگ و برتر ہے اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک اور غلام ہیں اور اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور تمام انسانوں کو پیدا کرنا اس کے لیے صرف ایک انسان کو پیدا کرنے کے مانند ہے ‘ وہی قادر مطلق ہے اور کوئی چیز اس کو عاجز کرنے والی نہیں ہے ‘ اور ان مشرکین کا حال یہ ہے کہ سختی اور مصیبت میں وہ اسی کے آگے گڑ گڑاتے ہیں اور سختی دور ہونے کے بعد اس کو یکسر بھول جاتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور توحید پر مزید دلائل قائم کیے کہ وہ رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد وارد کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے اور سمندروں میں کشتیوں کو رواں دواں رکھا ہے ‘ اور اس سورت کو تقویٰ کے حکم پر ختم کیا ہے اور قیامت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے ‘ اور یہ بتایا ہے کہ غیوب حمسہ کا ذاتی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔

سورۃ لقمان کے اس مختصر تعارف کے بعد اب میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی تائید سے سورة لقمان کا ترجمہ اور اس کی تفسیر شروع کررہا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس تفسیر میں مجھ سے وہی لکھوائے گا جو حق اور صواب ہے اور جو چیز باطل اور غلط ہے اس کی مجھ سے تردید اور تغلیط کرادے گا اور اللہ اپنے بندوں کے گمان کے موافق ہوتا ہے اور جو اس پر توکل کرتا ہے اس کی وہ غیب سے مدد فرماتا ہے سو میں نے اس تفسیر میں اسی پر توکل کیا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

غلام رسول سعید غفرلہ 

٤ جمادی الثانیہ ‘ ١٤٢٣ ھ/١١٤ اگست ٢٠٠٢ ء