أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِى النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں سے کی ہوئی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا مزہ چکھائے ‘ شاید وہ باز آجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں سے کی ہوئی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا مزہ چکھائے شاید وہ باز آجائیں آپ کہیے تم زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا جن میں سے اکثر مشرک تھے (الروم : ٤٢۔ ٤١ )

بحرو بر کے فساد کا محمل 

فساد سے مراد ہر وہ خرابی اور بگاڑ ہے جس سے انسانی معاشرہ میں امن و سکون تباہ ہوجائے یہ کبھی انسان کے ایک دوسرے پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہے جیسے نعمتوں کا زائل ہونا ‘ اور آفات اور مصائب کا آنا مثلاً قحط آنا اور زمین میں پیدا وار کا نہہونا ‘ بارشوں کا رک جانا ‘ یا بہ کثرت سمندری طوفانوں کا آنا ‘ دریائوں میں سیلاب آنا ‘ فوائد کا کم اور نقصانات کا زیادہ ہونا ‘ زلزلوں کا آنا ‘ آگ لگ جانے ‘ ڈوب جانے ‘ مال چھن جانے ‘ چوریی اور ڈاکہ کے واقعات کا زیادہ ہونا ‘ ہمارے زمانے میں دہشت گردی کے واقعات عام ہو رہے ہیں ‘ ہوائی جہاز اغوا کرلیے جاتے ہیں ‘ عمارتیں بموں سے اڑا دی جاتی ہیں ‘ ١١ ستمبر ٢٠٠١ ء میں نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ١١٠ منزلہ دو ٹ اوروں کے ساتھ اغوا کیے ہوئے دو ہوائی جہاز ٹکرائے گئے اور وہ دونوں عمارتیں ملبہ کا ڈھیر بن گئیں ‘ اسی دن واشنگٹن میں پینٹا گون کی ایک عمارت کے ساتھ ایک ہوائی جہاز ٹکرایا اور اس کی عمارت کا پیشتر حصہ تباہ ہوگیا ‘ فلسطین پر اسرائیل کے مظالم جاری ہیں ‘ سری لنکا میں برسوں سے خونی جنگ ہو رہی ہے ‘ ١٩٤٤ ء میں جاپان کے دو شہروں ہیو و شیما اور ناگا سا کی پر جو ایٹم بم گرائے گئے تھے یہ واقعہ ابھی زیادہ پرانا نہیں ہوا ‘ ہمارے شہر کراچی میں اور اسی طرح دوسر شہروں میں سیاسی ‘ مذہبی ‘ علاقائی اور لسانی اختلاف کی بناء پر لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں ‘ زندہ جلا رہے ہیں۔ انسان کے جسم سے کھال اتاری جاتی ہے ‘ اس کے جسم کو سگرٹوں سے داغا جاتا ہے اس کے جسم میں ڈرل مشین سے سوراخ کیے جاتے ہیں ‘ روز گاڑیوں کے چھن جانے اور اغوا برائے تاوان کے عام واقعات ہوتے ہیں ‘ البر اور البحر کنایہ ہے تمام دنیا سے ‘ غرض ساری دنیا فساد کی زد میں ہے ‘ ہم جنس پرستی کی بناء پر ایڈز کی بیماری کی وبا پھیل گئی ہے ‘ فحاشی اور بےراہ روی کی وجہ سے لوگوں کا ذہنی سکون ختم ہوگیا لوگ رات کی نیند سے محروم ہوگئے پھر سکون کی تلاش میں لوگوں نے تیز سے تیز نشہ کی پناہ لی ‘ خود کو شراب میں ڈبو دیا ‘ ہیروئن ‘ چرس ‘ راکٹ اور پیتھو ڈین کے انجیکشنوں سے خود کو تباہ کرلیا اور تمام فساد اللہ تعالیٰ سے بعاوت اور سرکشی کا نتیجہ ہے یہ شرک اور بداعمالیوں کا ثمر ہے۔

اور تم کو جس قدر مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کیوجہ سے ہیں اور بہت سی باتوں سے ‘ اللہ درگزر فرما لیتا ہے۔ (الشوریـ: ٣٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 41