أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَعًا ‌ؕ كُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان لوگوں میں سے (نہ ہوجائو) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ گروہ درگروہ ہوگئے ‘ ہر گروہ اسی سے خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس ہو

تفسیر:

ہر فریق کا اپنے نظریہ سے مطمئن اور خوش ہونا 

اس کے بعد فرمایا : ان لوگوں میں (نہ ہو جائو) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ‘ اور وہ گروہ در گروہ ہوگئے۔ (الروم : ٣٢)

حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت عائشہ اور حضرت ابو امام (رض) نے کہا اس سے مراد اہل قبلہ کے بدعتی فرقے ہیں۔

الربیع بن انس نے کہا اس سے مراد اہل کتاب میں سے یہود اور نصاریٰ ہیں۔

پھر فرمایا ہر گروہ اس سے خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس ہے۔

جو لوگ نافرمانیوں میں مستغرق ہیں وہ نافرمانیوں پر خوش ہوتے ہیں ‘ اسی طرح شیطان اور ڈاکو وغیرہ اپنی کاروائیوں سے خوش رہتے ہیں۔

حزب کے معنی لوگوں کی جماعت ہے یعنی لوگ مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے ‘ بعض وہ ہیں جن کا آخرت اور جنت کی طرف میلان ہے ‘ بعض وہ ہیں جو دنیا کی رنگینیوں اور عیاسیوں میں مست ہیں اور فریق اپنی سوچ اور نظر یہ پر مطمئن اور خوش ہے۔

فقہ کے چار امام ہیں : امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد بن حنبل ‘ اور ہر ایک کے پیروکار اور مقلد اپنے اپنے امام کی تحقیق اور اجتہاد پر مطمئن اور خوش ہیں ‘ اسی طرح عقائد کے امام ‘ امام ابوالحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی ہیں ‘ اور ان کے ماننے والے ان کے نظریات پر مطمئن اور خوش ہیں ‘ اسی طرح طریقت میں قادری ‘ چشتی ‘ اویسی اور نقشبندی سلسلے ہیں اور ہر ایک کے ماننے والے اپنے طریقہ پر مطمئن ہیں ‘ بریلوی ‘ دیوبندی ‘ اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر ہیں اور ہر مکتب فکر سے وابستہ لوگ اپنے اپنے نظریہ سے مطمئن اور خوش ہیں ‘ اسی دنیا میں اسلام ‘ یہودیت اور عیسائیت کے مذاہب ہیں ‘ خدا پرستوں ‘ بت پرستوں ‘ کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کے افکار اور ان کے ماننے والے ہیں ‘ بدھ مت کے پیروکار ہیں اور ان میں سے ایک اپنی جگہ مطمئن اور خوش ہے ‘ اور ہر فریق خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر قرار دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 32