هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۶)مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۶۷)

ترجمۂ  کنزالایمان: سنتے ہو یہ جو تم ہواس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا تو اس میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: سن لو: تم وہی لوگ ہوجو پہلے اس معاملے میں جھگڑ تے تھے جس کا تمہیں علم تھا تو (اب) اس میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں ؟ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ وہ ہر باطل سے جدا رہنے والے مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

{هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ: سن لو: تم وہی لوگ ہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ تم ہی ہو کہ تمہاری کتابوں میں  نبیِّ آخر الزّمان  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت کا بیان موجود ہے اس کے باوجود تم حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا تو جب معلوم باتوں میں تم جھگڑا کرتے ہو تو ان باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں علم ہی نہیں ، یعنی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہوحالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہیں ہے اورحقیقت حال یہ ہے کہ   کسی یہودی یا نصرانی یا مشرک کا اپنے آپ کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پیروکار کہنا درست نہیں کیونکہ وہ نہ یہودی تھے، نہ عیسائی اور نہ مشرک بلکہ ہر باطل سے جدا، خالصتاً اللہ تعالٰی کے فرمانبردار مسلمان بندے تھے۔