وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْؕ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۶۹)

ترجمۂ  کنزالایمان: کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں اور وہ صرف خود کو گمراہ کررہے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔

{وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے۔} یہ آیت حضرت معاذ بن جبل ، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے حق میں نازل ہوئی جن کو یہودی اپنے دین میں داخل کرنے کی کوشش کرتے اور یہودِیَّت کی دعوت دیتے تھے ،اس میں بتایا گیا کہ ’’یہ ان کی ہوس خام ہے ،وہ ان کو گمراہ نہ کرسکیں گے۔(تفسیر قرطبی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۶۹، ۲ / ۸۴، الجزء الرابع)

اس میں مذکورہ بالا صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت و شان بھی واضح ہوتی ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ کفار کے گروہ مسلمانوں کو اپنے دین میں داخل کرنے کیلئے کوششیں ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً کفرو اِرْتِداد کی تحریکیں چلتی رہتی ہیں اور اب تو فلموں ، ڈراموں ، مزاحیہ پروگراموں اور خصوصاً گانوں نے تو تباہی مچا رکھی ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔([فلموں ڈراموں اور گانوں کی تباہ کاریاں جاننے کے لئے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں‘‘ اور‘‘گانے باجے کے 35 کفریہ اشعار،،(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا ضرور مطالعہ کیجئے۔])